تجدیدِ عہدِ وفا


0
47 shares
تجدیدِ عہدِ وفا 1

م ۲۳ مارچ قراردادِ پاکستان سے موسوم ہے اور یہ ۱۹۴۰ عیسوی کو لاھور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں پیش کردہ قرارداد کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔
۱۸۵۷ عیسوی کو انگریز تاجروں نے اپنے ہندوستانی گماشتوں کی مدد سے ہندوستان کے دارالخلافہ دہلی پر قبضا کرلیا۔ اس وقت بہادر شاہ ظفر مغل بادشاہ تھے اور انکا ساتھ مسلمان قوم نے دیا تھا۔ انگریز حکمرانوں نے اس واقعہ کو غدر کا نام دیا تھا اور اس میں شامل مسلمانوں کو چن چن کر تختہ دار پر لٹکایا۔ سرسید احمد خان نے اس پر ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے “اسباب بغاوتِ ہند”۔ اس کتاب میں صرف ایک جھلک پیش کی گئی۔ ملکہ برطانیہ کے کارندوں نے پھر مسلمانوں کو غلامی کے طوق میں ایسا باندھا کہ آج تک ایک گروہ اس سحر سے باہر نہیں آسکا۔ اللہ سبحان تعالی جب کسی قوم پر مہربان ہوتا ہے تو انہیں اپنی زبوں حالی کا ادراک کرادیتاہے۔

عہدِ وفا- قراردادِ پاکستان کی طلب کیا تھی؟
محمد علی جناح سرزمینِ ہندوستان میں ایک روشن ستارہ بن کر ابھرے اور مسلمانوں نے انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھ لیا۔ علامہ محمد اقبال نے مسلم لیگ کی صدارت محمد علی جناح کے سپرد کردی اور قوم کو بتایا کہ مسلمانوں کی الگ ریاست کا قیام جناح ہی کی قیادت میں ممکن ہے۔ پاکستان کا قیام ایک نظریے کے تحت عمل میں آیا۔ نظریہ پاکستان کی حیثیت پاکستان کے وجود میں روح کی ہے۔
ہر تحریک کا ایک مفکر ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں فکر اقبال کی مرکزی حیثیت ہے۔ اقبال کا دسمبر 1930ء کاخطبہء الہ آباد ہماری تحریکِ آزادی کا میگناکارٹا ہے۔
” ہندوستان کے مسلمان اسلام کی روح سے اپنی وابستگی برقرار رکھیں گے۔۔۔ وہ اسلام کو ایک ایسی زندہ قوت سمجھتے ہیں جس کے مستقبل سے وہ قطعاً مایوس نہیں بلکہ وہ اسے ایک ایسی تقدیر کی حیثیت سے دیکھتے ہیں جس کا فیصلہ کوئی دوسری تقدیر نہیں کر سکتی۔۔۔ اسلام اب بھی ایک زندہ قوت ہے جو انسان کے تصور کو جغرافیائی حدود سے آزاد کرا سکتی ہے۔۔۔۔ اسلام انسان کی وحدت کو مادے اور روح کی متضاد دوئی میں تقسیم نہیں کرتا۔ اسلام میں خدا اور کائنات، روح اور مادہ، کلیسا اور ریاست ایک کل کے مختلف اجزاء ہیں۔۔۔۔ دنیائے اسلام میں ایک عالم گیر نظام ریاست موجود ہے جس کے بنیادی نکات وحی و تنزیل کا نتیجہ اور ثمرہ ہیں لیکن ہمارے فقہا جدید دنیا سے بے تعلق رہے ہیں، اس لیے موجودہ زمانے میں انھیں از سر نو مرتب کرکے مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اگر ملت اسلامیہ نے اسلام کے دیئے گئے عالمگیر نظامِ ریاست و سیاست کی تشکیل نو کرنی ہے تو اس کے لیے سب سے مناسب ترین خطہ ہندوستان ہے۔ کیونکہ ہندوستان ہی وہ ملک ہے جہاں اسلام ایک بہترین انسانیت ساز قوت کی حیثیت سے ظہورپذیر ہوا ہے۔ حقیقت میں یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ دنیا بھر میں شاید ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں اسلام ایک بہترین مردم ساز قوت کی حیثیت سے جلوہ گر ہوا ہے۔۔۔ مسلمان اگر اسلام کو بطور ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو وہ کسی بھی وقتی یا محدود مفاد کو حاصل کرنے کے لیے اپنے اجتماعی اہداف کی قربانی دینے کی بجائے ہندوستان کے کسی ایک مخصوص علاقے میں اپنی حکومت بنائیں۔۔۔ میں ہندوستان اور اسلام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک متحدہ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کررہا ہوں۔۔۔اسلام کے لیے ایک مواقع فراہم کرے گا کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہوجائے جو عربی شہنشاہیت نے اس پر ڈال دیے تھے اور اپنے قوانین، اپنی تعلیم اور اپنی ثقافت کو حرکت میں لاکر ان کی اصل روح اور عصر جدید کی روح سے رابطہ قائم کرسکے۔۔۔
قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کی جدوجہد بڑی جانفششانی اور تدبر سی کی۔ انکی طویل جدوجہد سے کچھ افکار کا مختصر مطالعہ کرتے ہیں کہ وہ کس مقصد کے حصول کے لئے تگ و دو کررہے تھے- یکم جنوری 1938ء کو گیا[ بہار] کے مسلمانوں کی طرف سے دیئے گئے استقبالیے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ
“مسلم لیگ کو اسلام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم سیاست میں مذہب کو داخل کر رہے ہیں۔ بلکہ اسلام تو مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ صرف مذہب نہیں بلکہ قانون، فلسفہ اور سیاست بھی ہے۔ اسلام ہر اس تفصیل پر مشتمل ہے جو ہماری شب و روز کی زندگی سے متعلق ہے۔ جب ہم اسلام کہتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہی کل اسلام ہے۔ اسلامی نظام حیات کی اساس آزادی، مساوات (Equality)، اور اخوت (Fraternity) ہے”
یکم فروری 1943ء کو اسماعیل کالج بمبئی کے طلباء خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ
’’اسلام مسلمانوں کی زندگی بشمول سماجی و معاشرتی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی پہلووں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی صورت میں ہم ایک ایسی ریاست قائم کریں گے جو اسلام کے اصولوںکے مطابق چلائی جائے گی۔ اس کے ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی نظام کی بنیاد اسلام کے اصولوں پر رکھی جائے گی۔”
11 اگست 1947 کو قائد اعظم نے فرمایا
” اگر ہمیں پاکستان کی اس عظیم الشان ریاست کو خوشحال بنانا ہے تو ہمیں اپنی تمام تر توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود کی جانب مبذول کرنا چاہیے۔خصوصاً عوام اور غریب لوگوں کی جانب اگر آپ نے تعاون اور اشتراک کے جذبے سے کام کیا تو تھوڑے ہی عرصہ میں اکثریت اوراقلیت ، صوبہ پرستی اور فرقہ بنددی اور دوسرے تعصبات کی زنجیریں ٹوٹ جائیں گی۔۔۔
ہماری ریاست کسی تمیز کے بغیر قائم ہو رہی ہے یہاں ایک فرقے یا دوسرے فرقہ میں کوئی تمیز نا ہوگی ہم اس بنیادی اصول کے تحت کام شروع کر رہے ہیں کہ ہم ایک ریاست کے باشندے اور مساوی باشندے ہیں ۔ آپ آزاد ہے آپ اس لئے آزاد ہیں کہ اپنے مندروں میں جائیں آپ آزاد ہیں کہ اپنی مسجدوں میں جائیں یا پاکستان کی حدود میں اپنی کسی عبادتگاہ میں جائیں آپ کا تعلق کسی مذہب کسی عقیدے یا کسی ذات سے ہو اس کا مملکت کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ بات بطور نصب العین اپنے سامنے رکھنی چاہیے اور آپ یہ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہ رہے گااور مسلمان مسلمان نہ رہے گا مذہبی مفہوم میں نہیں کیوں کہ یہ ہر شخص کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی مفہوم میں اس مملکت میں اس مملکت کے ایک شہری کی حیثیت سے”۔۔۔

عہدِ وفا- اسلامی ریاست کے قیام کا عہد
اے میری قوم کے لوگو؛ کیا ہم نے اللہ سے مدد نہیں مانگی تھی کہ ہمیں آزادی دے تو ہم معبودِ حق ہی عبادت کریں گے اور آقائے دوجہان محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اتباع کریں گے؟ کیا ہم نے نعرہ بلند نہیں کیا تھا ” پاکستان کا مطلب کیا ؛ لاالہ الا اللہ”۔ اس نعرہ کو تخلیق کیا تھا ایک نوجوان اصغر سودائی [ بعد از پروفیسر پرنسپل علامہ اقبال کالج، سیالکوٹ ] نے جو اکثر مسلم لیگ کے جلسوں میں کوئی نظم پیش کیا کرتے تھے
شب ظلمت میں گزاری ہے، اٹھ وقت بیداری ہے
جنگ شجاعت جاری ہے، آتش و آہن سے لڑ جا
پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ
ہادی و رہبر سرور دیں، صاحب علم و عزم و یقیں
قرآن کی مانند حسیں، احمد مرسل صلی علی
پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ
پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا- اس ریاست کے قیام کا واضع مقصد ایک اسلامی ریاست ” جدید مدینہ” کا حصول تھا- [ پڑھیے وینکٹ دھولی پالا کی کتاب مطبوعہ 2015 “” “
Creating a New Medina” State Power, Islam, and the Quest for Pakistan in Late Colonial North India”]
سرزمینِ برِ صغیرِ ہند پر اسلامی ریاست کی کیا ضرورت تھی اور اس کے کیا خدوخال ہونگے؟ اس پر خوب بحث ہوئی؛ جس میں غیر مسلموں نے بھی حصہ لیا-
نے 1951ء میں ایک کتاب لکھی Wilfred C Smith
” Pakistan as an Islamic State …. پڑھنے کے لیے لنک http://www.columbia.edu/itc/mealac/pritchett/00islamlinks/txt_smith_pakistan_1951.pdf ]-
ان دو کتابوں کو پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ پاکستان کے قیام کی بحث کیا تھی۔

عہدِ وفا- کیا پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بن سکا؟
پاکستان کا قیام جدید اسلامی ریاستِ مدینہ کے انقلاب کے لیے ہوا- سو ایک ردِ انقلاب کا ظہور ہونا قدرتی عمل تھا- ایک مٹھی بھر موڈرنسٹ طبقہ جو طاقتور ہے اور پاکستان کو سیکولر ملک بنانا چاہتا ہے؛ اس راہ میں حائل ہے- اس گروہ کو پہچاننا ہو تو راولپنڈی سازش کی تحقیق کرلیں؛ جسٹس منیر کی رپورٹ پڑھ لیں- غلام محمد ہو یا اسکندر مرزا یا بھٹو، کوئی انکا مقصد پورا نہی کر پایا تو انہوں نے کمال اتا ترک کا ماڈل اختیار کیا اور ایوب، یحیی اور مشرف کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا-
یہ لبرل/ سیکولر لوگ مسلسل تھیوروکرسی / ملائیت سے ڈرا تے ہیں- اسکی بشریٰ کمزوریوں کو خوب اچھالا جاتا ہے اور اسے 1400 سال قدیم زمانے میں مقید بتایا جاتا ہے– مگر خود اس طبقے نے پچھلے 70 سالوں میں اس قوم کو بھوک، ننگ، افلاس کے سوا دیا کیا ہے- نہ تعلیم دی نہ روزگار مگر نعرے ہی نعرے اور جی بھر کر کرپشن۔ سچی بات تو یہی ہے کہ آج کا پاکستان اسلامی فلاحی ریاست نہیں ہے۔

عہدِ وفا- کیا پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بن سکتا ہے؟
پاکستان کی تاریخ کا کمال تو یہ ہے کہ 73 سالہ پاکستان میں آج تک مولوی اقتدار میں نہی آیا کیونکہ اسے ووٹ ہی نہی ملے۔ مگر پاکستانی قوم نے ہمیشہ غلامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے احتجاج کیا اور جانیں دیں- اس قوم کو پاکستان کا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے رشتے کا مکمل یقین ہے- انکا مزاج صوفیانہ ہے، مگر کردار مجاہدانہ اور غازیانہ ہے۔ جب بھی دشمن نے للکارہ ہے بچہ بچہ سربکف ہوجاتا ہے۔ پاکستان کی فوج اس قوم کا حصہ ہے اور یہ ریاستِ پاکستان کا ہر صورت میں دفاع کرے گی۔ فوج چند جنرلز کا نام نہی بلکہ ان یونٹس اور بیرکس کا نام ہے جس کے ماتھے پر ” ایمان، تقوی، جہاد فی سبیل اللہ” درج ہے اور جو محاز پر جوش جگانے کے لیے نعرہ حیدری بلند کرتے ہیں۔۔۔ اس فوج کی مدد سے کبھی بھی سیکولر نظامِ حکومت قائم نہی ہوسکے گی-[ یہ راقم کی مصمم را ئے ہے کیونکہ ان صفوں میں دو دھائیاں گزاری ہیں]۔
ا گر پاکستان کی 73 سال کی تاریخ سے تالع آزماوں کو سبق نہی مل رہا تو تجربہ کرتے جائیں، آپ مٹی میں مل جائیں گے اور ممتاز قادری امر ہو تے جائیں گے۔
پاکستان کا آئین اللہ کو حاکم مطلق گردانتا ہے سو اس کو حرزِ جاں بنائیں اور اس کے مطابق قانون سازی کریں اور حکومت گیری کریں تو ایک فلاحی جمہوری ریاست وجود میں آئیگی اور ہر ادارہ اپنے دائرے میں نظر آئیگا۔
جدید جمہوری اسلامی فلاحی ریاست کی اصل روح کیا ہو سکتی ہے جاننے کی لیے پاکستان کے موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کی یہ تقریر سنئیے

[https://www.youtube.com/watch?v=xhDW0I-8uYU ]

This article has been penned by Muhammad Asif Raza (Cdr Retd, PN ), with the help of data / info available on free web net. .

Image may contain: text

Like it? Share with your friends!

0
47 shares

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
1
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win
Osama Raza

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Choose A Format
Personality quiz
Series of questions that intends to reveal something about the personality
Trivia quiz
Series of questions with right and wrong answers that intends to check knowledge
Poll
Voting to make decisions or determine opinions
Story
Formatted Text with Embeds and Visuals
List
The Classic Internet Listicles
Countdown
The Classic Internet Countdowns
Open List
Submit your own item and vote up for the best submission
Ranked List
Upvote or downvote to decide the best list item
Meme
Upload your own images to make custom memes
Video
Youtube, Vimeo or Vine Embeds
Audio
Soundcloud or Mixcloud Embeds
Image
Photo or GIF
Gif
GIF format