Dr Zakir Naik 2021 Answer about Wasim Rizvi Question regarding Quran @Deen Speeches


0
Dr Zakir Naik 2021 Answer about Wasim Rizvi Question regarding Quran @Deen Speeches



Dr Zakir Naik 2021 Answer about Wasim Rizvi Question regarding Quran @Deen Speeches

Zakir Abdul Karim Naik is an Indian Islamic televangelist and preacher. A medical physician through expert training, Dr Zakir Naik is renowned as a dynamic worldwide orator on Islam and Comparative Religion.

👍 Like Us on Facebook: https://web.facebook.com/DeenSpeeches

In this video Dr zakir naik replied about Wasim Rizvi Question about Quran. Waseem Rizvi is a former chairman of the Shia Central Board of Waqf in Uttar Pradesh. He is the producer of the Bollywood film Ram Ki Janmabhoomi. He is a supporter of Bhartiya Janta Party. On 12 March 2021 Waseem filed a petition in the Supreme Court, where Waseem Rizvi appealed to remove 26 verses from the Quran.

dr zakir naik 2021,
dr zakir naik question answer 2021,
Wasim Rizvi Question about Quran,
zakir naik hindi,
Wasim Rizvi Quran,
zakir naik amazing reply,

#ZakirNaik #DrZakirNaik #drzakirnaik2021 #deenSpeeches

Like the video, Comment your views about it.
Thanks for watching. 🙂

source


Like it? Share with your friends!

0

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
0
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win
Deen Speeches

24 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  1. I'm sure you guys are doing good work, but please choose the thumbnails and titles wisely. The thumbnail for this video is really disturbing unless someone reads it fully.

  2. قرآن مجید عالمی امن و سلامتی کا داعی
    قرآن بتاتا ہے کہ نوع انسانی کی اصل ایک ہے

    امہ مسلمہ امن عالم اور سلامتی کے پیکر ، ساری انسانیت کے لیے نفع بخش اور راحت رساں ہیں ۔

    قرآن میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے :

    من أجل ذلك كتبنا على بنى إسرائيل أنه من قتل نفسا بغير نفس أو فساد في الارض فكأنما قتل الناس جميعا ،
    و من أحياها فكأنما أحيا الناس جميعا ….
    ( المائده : ٣٢)

    اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر( یہ لکھدیا) کہ جس نے کسی نفس انسانی کو کسی دوسری جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی تو اس نے تمام انسانوں کو زندگی عطا کردی ۔
    آدم علیہ السلام کے پہلے دو بیٹوں میں سے قابیل نے ہابیل کو نا حق قتل کردیا ۔ بنی آدم میں یہ سب سے پہلا خون تھا ۔ چونکہ زمین میں نا حق قتل کی ابتدا ہوچکی تھی اس لیے اللہ جل شانہ نے مستقبل میں انسانی زندگی کی بقا اور تحفظ کے لیے یہ ارشاد فرمایا
    ا
    قصاص کا حکم سب سے پہلے بنی اسرائیل کو دیاگیا تھا تاکہ زمین میں فتنہ و فساد اور ناحق خون انسانی نہ بہایا جائے اور اس کو اتنا بڑا اور شنیع جرم قرار دے کر یہ عالمی فرمان جاری فرمادیا ۔

    اسلام اپنی تعلیمات و ہدایات کی روشنی میں امن و سلامتی ، رافت و رحمت ، الفور محبت ، عالمی بھائی چارہ اور انسانیت کا دین ہے ۔

    اس کائنات میں انسانی جان سب سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ نفس انسانی اللہ قادر مطلق کی پیدا کی ہوئی ہے اس لیے اس سے زیادہ انسانی جان کی قیمت کو کون سمجھ سکتا ہے ؟

    اسلام نے وحدت بنی آدم کا وسیع ، ہمہ گیر اور واضح تصور دیا ہے اور اس کو بہت مضبوط بنیادوں پر استوار کیا ہے ۔ اس کے نزدیک پوری بنی نوع انسانی ایک خالق اللہ قادر مطلق کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں ۔ دوسری حقیقت ہمیں وہ یہ بتاتا ہے کہ سارے انسان ایک ماں باپ کے اولاد ہیں ، اس لیے وہ اپنے تمام ظاہری اختلافات کے باوجود ایک وحدت ہیں ۔

    يا أيها الناس اتقوا ربكم الذى خلقكم من نفس واحدة
    و خلق منها زوجها و بث منهما رجالا كثيرا و نساء …
    ( النساء : ١)
    اے لوگو! اپنے پرودگار سے ڈور جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں ( زمین) پر پھیلادین ۔۔۔ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے :

    من أجل ذلك كتبنا على بنى إسرائيل أنه من قتل نفسا بغير نفس أو فساد في الارض فكأنما قتل الناس جميعا ،
    و من أحياها فكأنما أحيا الناس جميعا ….
    ( المائده : ٣٢)

    اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر( یہ لکھدیا) کہ جس نے کسی نفس انسانی کو کسی دوسری جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی تو اس نے تمام انسانوں کو زندگی عطا کردی " ۔
    آدم علیہ السلام کے پہلے دو بیٹوں میں سے قابیل نے ہابیل کو نا حق قتل کردیا ۔ بنی آدم میں یہ سب سے پہلا خون تھا ۔ چونکہ زمین میں ناحق قتل کی ابتدا تھی اس لیے اللہ جل شانہ نے مستقبل میں انسانی زندگی کی بقا اور تحفظ کے لیے یہ ارشاد فرمایا
    ا
    قصاص کا حکم سب سے پہلے بنی اسرائیل کو دیاگیا تھا تاکہ زمین میں فتنہ و فساد اور ناحق خون انسانی نہ بہایا جائے اور اس کو اتنا بڑا اور شنیع جرم قرار دے کر یہ عالمی فرمان جاری فرمادیا ۔

    اس کائنات میں انسانی جان سب سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ نفس انسانی اللہ قادر مطلق کی پیدا کی ہوئی ہے اس لیے اس سے زیادہ انسانی جان کی قدر و قیمت کو کون سمجھ سکتا ہے ؟

    اسلام نے وحدت بنی آدم کا وسیع ، ہمہ گیر اور واضح تصور دیا ہے اور اس کو بہت مضبوط بنیادوں پر استوار کیا ہے ۔ اس کے نزدیک پوری بنی نوع انسانی ایک خالق اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں ۔

    دوسری حقیقت ہمیں وہ یہ بتاتا ہے کہ سارے انسان ایک ماں باپ آدم و حوا کی اولاد ہیں ، اس لیے وہ اپنے تمام ظاہری اختلافات کے باوجود ایک خاندان کے افراد ہیں ۔

    يا أيها الناس اتقوا ربكم الذى خلقكم من نفس واحدة
    و خلق منها زوجها و بث منهما رجالا كثيرا و نساء …
    ( النساء : ١)
    اے لوگو! اپنے پرودگار سے ڈور جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں ( زمین) پر پھیلادین ۔۔۔
    کنبے اور قبیلے وجود میں آئے ، انسانی گروہوں اور قوموں کا ظہور ہوا اور انسانی آبادی زمین کے مختلف خطوں اور علاقوں میں پھیلتی اور آباد ہوتی چلی گئیں
    اللہ جل شانہ نے ان کے درمیان اخوت و برادری کا جو رشتہ قائم کردیا ہے اسے توڑنے کی قرآن ہرگز اجازت نہیں دیتا اور اس کے خلاف ہر اقدام کی سخت مخالفت کرتا ہے ۔ اس کے نزدیک اس خوانوادہ کو اجاڑنے اور برباد کرنے کی ہر کوشش کو فتنہ و فساد ہم معنی قرار دیتا ہے ۔

    انسانوں کے درمیان رنگ و روپ ، نسل و نسب ، زبانوں ، بود و باش ، صنعت و حرفت اور قومیت و وطنیت کے اختلافات فروعی اور ناقابل اعتبار ہیں ۔

    قرآن مجید کی تعلیمات میں سرے سے نفسانیت اور انفرادی یا اجتماعی خود غرضی کا وہ عنصر ہی موجود نہیں ہے جس کی طبیعی خاصیت یہ ہے کہ انسانیت کو نسلوں اور قوموں میں اور پھر افراد و اشخاص میں تقسیم کردے اور ان کے اندر ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ و مزاحمت اور بغض و حسد کے جذبات ابھار کر مخاصمت اور تنازع کی حالت پیدا کردے ۔

    جاری

  3. نان مسلم کے جواب دہنا بیکار ھے بہت ۔ لوگ ۔ مسلم نام رکھ کر قرآن پر علط علط تنقید کرتے ہیں ان کے پہلے ان کا بیک گراونڈ کے بارے میں معلوم کریں آپ سمجھ جائیں گے

  4. हे मानव कयामत के दिन मैं तेरा धर्म नहीं बल्कि तेरी आस्थाको देखता हूँ सद्बबुदि व सुमित से काम लें – कल्कि रामावतार !

  5. اسلام اور امہ مسلمہ کے خلاف عالمی سازش
    دین اسلام عالمی اعداء کے نرغے میں

    وسیم رضوی اسلام دشمن طاقتوں کا ایجنٹ ہے ۔ اس کے در پردہ وہی کام کررہے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک پاکستانی بھگوڑا طارق فتح بھی ہے جس کا استعمال انڈیا کے ٹی وی چینلز مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے کرتے رہتے ہیں ۔

    اس دل ازار معاملہ میں جذباتی اور مشتعل ہونے اور منفی رد عمل ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مسلم پر سنل لاء بورڈ کی ٹیم اس معاملہ کو دیکھ رہی ہے اور وہ اس سلسلے میں ضروری اقدام کر رہی ہے ۔

    ١٩٨٥ میں بدبخت چاند مل چوپڑا نے بھی ایسی گستاخانہ اور بدبختانہ جرات کی تھی اور کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن مجید پر پابندی کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا اس وقت مسلمانوں کو اشتعال میں آنے سے منع کیا گیا تھا اور صبر و ضبط سے کام لینے کے لیے کہا گیا تھا ۔
    حکومت کی طرف سے معین اٹارنی جنرل نے قرآن کی حقانیت اور عظمت پر ایسی مدلل تقریر کی کہ پدما خستگیر نے جن کی عدالت میں یہ مقدمہ چل رہا تھا ، وہ بہت متآثر ہوئیں اور اس مقدمہ کو خارج کردیا ۔ چاند مل چوپڑا بھی کچھ دنوں کے بعد جہنم رسید ہوگیا ۔
    اگر عالمی طور قرآن و پیغمبر اسلام کے خلاف اس قسم کے بدبختانہ واقعات اور حادثات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کی کڑی دین اسلام کے خلاف طویل سازشوں سے جڑی ہوئی ہے ۔ قارئین اس قسم کے پیش آنے والے واقعات کو اپنے ذہن میں تازہ کرلیں ۔
    آسٹریلیا میں ہونے والی قانون سازی میں بھی اس قسم کی بحث ہوچکی ہے ۔ سیاستدانوں کے ذہنوں میں قرآن مجید کی بعض آیات کے بارے میں خواہ مخواہ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ اسلام کے خلاف شر انگیزی کے سوا کچھ نہیں ۔
    آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے اس مسودہ قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے نفرت کا درس دینے والوں اور حزب التحریر جیسی تنظیموں کے کام کو روکا جاسکے گا ۔

    برطانوی مسلمانوں اور علماء کرام نے آسٹریلیا کی مجوزہ قانون سازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ بل پاس ہوگیا تو برطانیہ اور دوسرے ممالک پر بھی اس کے اثرات پڑیں گے ۔

    اعداء اسلام قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹاکر اس کے غلط معانی بیان کرتے ہیں ۔ اس طرح عالمی پیمانے پر عالمی رائے عامہ کو اسلام مخالف کرنے کی صدیوں سے کوششیں اور سازشیں کی جارہی ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امہ مسلمہ عالمی پیمانہ پر اس صورتحال کا جائزہ لے اور عالمی پیمانہ پر اس کا مقابلہ کرے ۔

    عالم اسلام کے مسلم حکمراں اعداء اسلام کے بٹھائے ہوئے مہرے ہوتے ہیں ۔ ان کو ذاتی اقتدار کے علاوہ کسی اور چیز سے دلچسپی نہیں ہوتی ہے ۔ انہیں ہر وقت یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں ان کے آقا خفا ہوکر انہیں کرسی اقتدار سے ہٹا نہ دیں ۔

    مسلم ممالک کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ان کا ربط و ضبط مسلم عوام کے ساتھ ہونے کے بجائے مغربی دنیا کے حکمرانوں سے ہے جن کے اشارے اور منشا کے مطابق یہ کام کرتے ہین ۔ عوام کی فلاح و بہبود ، سائنس و ٹکنالوجی اور علوم و فنون کے مختلف میدانوں میں ترقیاتی منصوبے بنانا اور ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر لے جانا ان کی سوچ اور قابلیت سے باہر کی بات ہے ۔
    عصرحاضر میں امہ مسلمہ کی انتہائی خراب اور ناگفتہ بہ حالت کی اصل وجہ مسلم ممالک کے یہی حکمراں ہیں ۔

    و سیم رضوی تو صرف ایک مہرہ اور آلہ کار ہے ۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ہمیں ان خفیہ طاقتوں کی سازشوں اور خفیہ ریشہ دوانیوں پر گہری نظر رکھنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ لوگ عالمی پیمانہ پر اسلام پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے رہتے ہیں اور اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دینے میں ہمہ وقت مصروف ہیں ۔

    ہم واضح طور پر محسوس کر رہے ہیں کہ ہمہ دم ظہور پذیر حوادث نے امہ مسلمہ کو شش جہات سے گھیر لیا ہے ۔ پوری امہ مسلمہ اور اس میں پائے جانے والے اہل علم ، اصحاب فکر و نظر اور دانشور طبقہ موجودہ صورتحال سے مضطرب اور پریشان ہیں ۔ حقیقت یہ کہ
    امہ مسلمہ کے خلاف عالمی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہیں ۔ علامہ اقبال رحمہ تو بہت پہلے کہہ گئے کہ :

    رولے اب دل کھول کر اے دیدہ خون نابہ بار
    وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار

    امہ مسلمہ داخلی اور خارجی ہر دو سطح پر اعداء کے مسلسل حملوں سے کمزور ہوتی چلی جارہی ہے ۔ اس قسم کے تمام حملوں کی زد در حقیقت اسلام کی اساس پر جاکر پڑتی ہے جو امہ مسلمہ کا تشخص ہے ۔ صورتحال کی سنگینی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔

    اسلام اللہ کا دین ہے جس کی حامل امہ مسلمہ ہے ۔ امہ کے ساتھ ساتھ اسلام ہر طرف سے اعداء کے نرغے میں گھر چکا یے ۔ گویا بساط حیات پر اسے شہ دی جا چکی ہے ۔ اسلام اور امہ مسلمہ کے خلاف موجودہ عالمی صورتحال کا سخت مقابلہ کرکے اسے ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے !
    فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے

    امید ہے کہ ہند کی مسلم قیادت اس خطرناک عالمی صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرکے موٹر تدابیر کرے گی ۔ خاص کر علماء اسلام کو اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کیوں دین کی فکر اور اس کی بقا اور حفاظت کا جذبہ انہیں کے دردمند دل میں ہے ۔

    دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
    دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا

    علامہ اقبال رحمہ

    ڈاکٹر محمد لئیق ندوی
    ڈائرکٹر

    آمنہ انسٹیٹوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ انالائسس
    A Global and Universal Research Institute
    Kolkata
    nadvilaeeque@gmail.com

  6. Zakir Naik k jaise Musalmano k wajah se ….I was flying by air Arabia. Behnc..d takeoff k pehle Allahu Akbar bola pilot ne (he prayed). I was like ..what the hell is goin 2 happen, phas gaya kya musibat me ????

  7. خدا بہتر جانتا تھا کہ
    اپنا آخری پیغام
    کس زبان میں دے!

    خدا نے قرآن میں وعدہ کر رکھا ہے: یسرنا القرآن
    کوئی سچی نیت سے گود میں لے کر تو بیٹھے
    سمجھنے کی کوشش تو کرے!

    قرآن خود بولنے لگتا ہے!

Choose A Format
Personality quiz
Series of questions that intends to reveal something about the personality
Trivia quiz
Series of questions with right and wrong answers that intends to check knowledge
Poll
Voting to make decisions or determine opinions
Story
Formatted Text with Embeds and Visuals
List
The Classic Internet Listicles
Countdown
The Classic Internet Countdowns
Open List
Submit your own item and vote up for the best submission
Ranked List
Upvote or downvote to decide the best list item
Meme
Upload your own images to make custom memes
Video
Youtube, Vimeo or Vine Embeds
Audio
Soundcloud or Mixcloud Embeds
Image
Photo or GIF
Gif
GIF format