dr zakir naik question answer 2021 || Why does God need our worship


0
dr zakir naik question answer 2021 || Why does God need our worship



dr zakir naik question answer 2021 || Why does God need our worship
A medical doctor by professional training, Dr Zakir Naik is renowned as a dynamic international orator on Islaam and Comparative Religion. He is the President of Islaamic Research Foundation International. He is 54 years old. Dr Zakir clarifies Islaamic viewpoints and clears misconceptions about Islaam, using the Qur’aan, authentic Hadith and other religious Scriptures as a basis, in conjunction with reason, logic and scientific facts. He is popular for his critical analysis and convincing answers to challenging questions posed by audiences after his public talks.

In the last 24 years Dr Zakir Naik has delivered over 2,000 public talks in the USA, Canada, UK, Italy, France, Turkey, Saudi Arabia, UAE, Kuwait, Qatar, Bahrain, Oman, Egypt, Yemen, Australia, New Zealand, South Africa, Botswana, Nigeria, Ghana, Gambia, Algeria, Morocco, Sri Lanka, Brunei, Malaysia, Singapore, Indonesia, Hong Kong, China, Japan, South Korea, Thailand, Guyana (South America), Trinidad, Mauritius, Maldives and many other countries, in addition to numerous public talks in India. In April 2012, his public talk in Kishanganj, Bihar, in India was Alhamdulillah attended by over one million people being one of the largest gathering in the world for any religious lecture by a single orator.

Amongst the billion plus population of India Alhamdulillah Dr Zakir Naik was ranked No. 82 in the ‘100 Most Influential People in India’ list published by Indian Express in the year 2009 and ranked No. 89 in 2010. He was ranked No. 3 in the ‘Top 10 Spiritual Gurus of India in 2009’ and topped this list in 2010. He is ranked in the top 70 list of the ‘500 Most Influential Muslims in the World’ published by Georgetown University in the last 10 editions from 2011 to 2020. In the list of The Top 100 Cumulative Influence over 10 years Dr Zakir was ranked No. 79.

By Allaah’s help, he has successfully participated in several symposia and dialogues with prominent personalities of other faiths. His public dialogue with Dr William Campbell (of USA) on the topic “The Qur’aan and the Bible in the light of Science” held in Chicago, USA, in April, 2000 was a resounding success. His inter-faith Dialogue with prominent Hindu Guru Sri Sri Ravi Shankar on the topic “The Concept of God in Hinduism and Islaam in the light of Sacred Scriptures” held at Palace Grounds, Bangalore, on 21st Jan. 2006, was highly appreciated by people of both the faiths.

Shaikh Ahmed Deedat, the world famous orator on Islaam and Comparative Religion, who had called Dr Zakir “Deedat Plus” in 1994, presented a plaque in May 2000 with the engraving “Awarded to Dr Zakir Abdul Karim Naik for his achievement in the field of Da’wah and the study of Comparative Religion”. “Son what you have done in 4 years had taken me 40 years to accomplish, Alhamdulillaah”.
Dr Zakir Naik appears regularly on many international TV channels in more than 175 countries of the world. More than a hundred of his talks, dialogues, debates and symposia are available on DVDs. He has authored many books on Islaam and Comparative Religion.
i use Footage And image | Credit
videoblocks
shutterstock
videos.pexels
videvo
unsplash
pixabay
Background Music Credit: Youtube Music library
All credit for contents used in this video goes to the right owner.
FAIR-USE COPYRIGHT Disclaimer
This video meant for educational purpose only we not own any copyrights all the rights go to their respective owners.

Copyright Disclaimer Under Section 107 of the Copyright Act 1976, allowance is made for “fair use” for purposes such as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship, and research. Fair use is a use permitted by copyright statute that might otherwise be infringing. Non-profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use.
DISCLAIMER: This Channel DOES NOT Promote or encourage Any illegal activities , all contents provided by This Channel is meant for EDUCATIONAL PURPOSE only .

Copyright Disclaimer : Under Section 107 of the Copyright Act 1976, allowance is made for “fair use” for purposes such as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship, and research. Fair use is a use permitted by copyright statute that might otherwise be infringing. Non-profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use.
Question’s Eye Solve
1) dr zakir naik
2) dr zakir naik 2021
3) zakir naik
4) zakir naik 2021
5) dr zakir naik 2021 urdu
6) dr.zakir naik
7) DR Zakir Naik urdu/hindi 2021
8) dr zakir naik question answer
9) Ham Dam
10)dr zakir naik question answer 2021
#God #worship #zakirnaik

source


Like it? Share with your friends!

0

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
0
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win
Ham Dam

25 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  1. 1اور جو تخت پر بَیٹھا تھا مَیں نے اُس کے دہنے ہاتھ میں ایک کِتاب دیکھی جو اندر سے اور باہِر سے لِکھی ہُوئی تھی اور اُسے سات مُہریں لگا کر بند کِیا گیا تھا۔ 2پِھر مَیں نے ایک زور آور فرِشتہ کو بُلند آواز سے یہ مُنادی کرتے دیکھا کہ کَون اِس کِتاب کو کھولنے اور اُس کی مُہریں توڑنے کے لائِق ہے؟۔ 3اور کوئی شخص آسمان پر یا زمِین پر یا زمِین کے نِیچے اُس کِتاب کو کھولنے یا اُس پر نظر کرنے کے قابِل نہ نِکلا۔ 4اور مَیں اِس بات پر زار زار رونے لگا کہ کوئی اُس کِتاب کو کھولنے یا اُس پر نظر کرنے کے لائِق نہ نِکلا۔ 5تب اُن بزُرگوں میں سے ایک نے مُجھ سے کہا کہ مَت رو ۔ دیکھ ۔ یہُودا ہ کے قبِیلہ کا وہ بَبر جو داؤُد کی اصل ہے اُس کِتاب اور اُس کی ساتوں مُہروں کو کھولنے کے لِئے غالِب آیا۔
    6اور مَیں نے اُس تخت اور چاروں جانداروں اور اُن بزُرگوں کے بِیچ میں گویا ذبح کِیا ہُؤا ایک برّہ کھڑا دیکھا ۔ اُس کے سات سِینگ اور سات آنکھیں تِھیں ۔ یہ خُدا کی ساتوں رُوحیں ہیں جو تمام رُویِ زمِین پر بھیجی گئی ہیں۔ 7اُس نے آ کر تخت پر بَیٹھے ہُوئے کے دہنے ہاتھ سے اُس کِتاب کو لے لِیا۔ 8جب اُس نے کِتاب لے لی تو وہ چاروں جان دار اور چَوبِیس بزُرگ اُس برّہ کے سامنے گِر پڑے اور ہر ایک کے ہاتھ میں بَربَط اور عُود سے بھرے ہُوئے سونے کے پِیالے تھے ۔ یہ مُقدّسوں کی دُعائیں ہیں۔
    9اور وہ یہ نیا گِیت گانے لگے کہ
    تُو ہی اِس کِتاب کو لینے
    اور اُس کی مُہریں کھولنے کے لائِق ہے
    کیونکہ تُو نے ذبح ہو کر اپنے خُون سے
    ہر ایک قبِیلہ اور اہلِ زُبان اور اُمّت اور قَوم میں
    سے خُدا کے واسطے لوگوں کو خرِید لِیا۔
    10اور اُن کو ہمارے خُدا کے لِئے ایک بادشاہی اور کاہِن بنا دِیا
    اور وہ زمِین پر بادشاہی کرتے ہیں۔
    11اور جب مَیں نے نِگاہ کی تو اُس تخت اور اُن جان داروں اور بزُرگوں کے گِرداگِرد بُہت سے فرِشتوں کی آواز سُنی جِن کا شُمار لاکھوں اور کروڑوں تھا۔ 12اور وہ بُلند آواز سے کہتے تھے کہ
    ذبح کِیا ہُؤا برّہ ہی
    قُدرت اور دَولت اور حِکمت اور طاقت اور
    عِزّت اور تمجِید اور حَمد کے لائِق ہے۔
    13پِھر مَیں نے آسمان اور زمِین اور زمِین کے نِیچے کی اور سمُندر کی سب مخلُوقات کو یعنی سب چِیزوں کو جو اُن میں ہیں یہ کہتے سُنا کہ
    جو تخت پر بَیٹھا ہے اُس کی اور بَرّہ کی
    حَمد اور عِزّت اور تمجِید اور سَلطنت
    ابدُالآباد رہے۔
    14اور چاروں جانداروں نے آمِین کہا اور بزُرگوں نے گِر کر سِجدہ کِیا۔

  2. 1اِن باتوں کے بعد جو مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ آسمان میں ایک دروازہ کُھلا ہُؤا ہے اور جِس کو مَیں نے پیشتر نرسِنگے کی سی آواز سے اپنے ساتھ باتیں کرتے سُنا تھا وُہی فرماتا ہے کہ یہاں اُوپر آ جا ۔ مَیں تُجھے وہ باتیں دِکھاؤں گا جِن کا اِن باتوں کے بعد ہونا ضرُور ہے۔ 2فوراً مَیں رُوح میں آ گیا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ آسمان پر ایک تخت رکھّا ہے اور اُس تخت پر کوئی بَیٹھا ہے۔ 3اور جو اُس پر بَیٹھا ہے وہ سنگِ یشب اور عقِیق سا معلُوم ہوتا ہے اور اُس تخت کے گِرد زُمّرد کی سی ایک دھَنک معلُوم ہوتی ہے۔ 4اور اُس تخت کے گِرد چَوبِیس تخت ہیں اور اُن تختوں پر چَوبِیس بزُرگ سفید پَوشاک پہنے ہُوئے بَیٹھے ہیں اور اُن کے سروں پر سونے کے تاج ہیں۔ 5اور اُس تخت میں سے بِجلِیاں اور آوازیں اور گرجیں پَیدا ہوتی ہیں اور اُس تخت کے سامنے آگ کے سات چراغ جل رہے ہیں ۔ یہ خُدا کی سات رُوحیں ہیں۔ 6اور اُس تخت کے سامنے گویا شِیشہ کا سمُندر بِلّور کی مانِند ہے
    اور تخت کے بِیچ میں اور تخت کے گِرداگِرد چار جاندار ہیں جِن کے آگے پِیچھے آنکھیں ہی آنکھیں ہیں۔ 7پہلا جان دار بَبر کی مانِند ہے اور دُوسرا جان دار بَچھڑے کی مانِند اور تِیسرے جان دار کا چِہرہ اِنسان کا سا ہے اور چَوتھا جان دار اُڑتے ہُوئے عُقاب کی مانِند ہے۔ 8اور اِن چاروں جان داروں کے چَھ چَھ پر ہیں اور چاروں طرف اور اندر آنکھیں ہی آنکھیں ہیں اور رات دِن بغَیر آرام لِئے یہ کہتے رہتے ہیں کہ
    قدُّ وس ۔ قدُّوس ۔ قدُّوس ۔ خُداوند خُدا قادِرِ مُطلق
    جو تھا اور جو ہے اور جو آنے والا ہے۔
    9اور جب وہ جان دار اُس کی تمجِید اور عِزّت اور شُکر گُذاری کریں گے جو تخت پر بَیٹھا ہے اور ابدُالآباد زندہ رہے گا۔ 10تو وہ چَوبِیس بزُرگ اُس کے سامنے جو تخت پر بَیٹھا ہے گِر پڑیں گے اور اُس کو سِجدہ کریں گے جو ابدُالآباد زِندہ رہے گا اور اپنے تاج یہ کہتے ہُوئے اُس تخت کے سامنے ڈال دیں گے کہ۔
    11اَے ہمارے خُداوند اور خُدا
    تُو ہی تمجِید اور عِزّت اور قُدرت کے لائِق ہے
    کیونکہ تُو ہی نے سب چِیزیں پَیدا کِیں
    اور وہ تیری ہی مرضی سے تِھیں اور پَیدا ہُوئیں۔

  3. 1اور سردِیس کی کلیسیا کے فرشتہ کو یہ لکھ کہ جس کے پاس خُدا کی سات رُوحیں ہیں اور سات ستارے ہیں وہ یہ فرماتا ہے کہ مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہُوں کہ تُو زِندہ کہلاتا ہے اور ہے مُردہ۔ 2جاگتا رہ اور اُن چِیزوں کو جو باقی ہیں اور جو مِٹنے کو تِھیں مضبُوط کر کیونکہ مَیں نے تیرے کِسی کام کو اپنے خُدا کے نزدِیک پُورا نہیں پایا۔ 3پس یاد کر کہ تُو نے کِس طرح تعلِیم پائی اور سُنی تھی اور اُس پر قائِم رہ اور تَوبہ کر اور اگر تُو جاگتا نہ رہے گا تو مَیں چور کی طرح آ جاؤں گا اور تُجھے ہرگِز معلُوم نہ ہو گا کہ کِس وقت تُجھ پر آ پڑُوں گا۔ 4البتّہ سردِیس میں تیرے ہاں تھوڑے سے اَیسے شخص ہیں جِنہوں نے اپنی پَوشاک آلُودہ نہیں کی ۔ وہ سفید پَوشاک پہنے ہُوئے میرے ساتھ سَیر کریں گے کیونکہ وہ اِس لائِق ہیں۔ 5جو غالِب آئے اُسے اِسی طرح سفید پَوشاک پہنائی جائے گی اور مَیں اُس کا نام کِتابِ حیات سے ہرگِز نہ کاٹُوں گا بلکہ اپنے باپ اور اُس کے فرِشتوں کے سامنے اُس کے نام کا اِقرار کرُوں گا۔
    6جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔
    فِلدِلفیہ کی کلِیسیا کو پَیغام
    7اور فِلدِلفیہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ
    جو قدُّوس اور بَرحق ہے اور داؤُد کی کُنجی رکھتا ہے جِس کے کھولے ہُوئے کو کوئی بند نہیں کرتا اور بند کِئے ہُوئے کو کوئی کھولتا نہیں وہ یہ فرماتا ہے کہ۔ 8مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہُوں (دیکھ مَیں نے تیرے سامنے ایک دروازہ کھول رکھّا ہے ۔ کوئی اُسے بند نہیں کر سکتا) کہ تُجھ میں تھوڑا سا زور ہے اور تُو نے میرے کلام پر عمل کِیا ہے اور میرے نام کا اِنکار نہیں کِیا۔ 9دیکھ مَیں شَیطان کے اُن جماعت والوں کو تیرے قابُو میں کر دُوں گاجو اپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں بلکہ جُھوٹ بولتے ہیں ۔ دیکھ مَیں اَیسا کرُوں گاکہ وہ آ کر تیرے پاؤں میں سِجدہ کریں گے اور جانیں گے کہ مُجھے تُجھ سے مُحبّت ہے۔ 10چُونکہ تُو نے میرے صبر کے کلام پر عمل کِیا ہے اِس لِئے مَیں بھی آزمایش کے اُس وقت تیری حِفاظت کرُوں گاجو زمِین کے رہنے والوں کے آزمانے کے لِئے تمام دُنیا پر آنے والا ہے۔ 11مَیں جلد آنے والا ہُوں ۔ جو کُچھ تیرے پاس ہے اُسے تھامے رہ تاکہ کوئی تیرا تاج نہ چِھین لے۔ 12جو غالِب آئے مَیں اُسے اپنے خُدا کے مَقدِس میں ایک سُتُون بناؤں گا۔ وہ پِھر کبھی باہر نہ نِکلے گا اور مَیں اپنے خُدا کا نام اور اپنے خُدا کے شہر یعنی اُس نئے یروشلِیم کا نام جو میرے خُدا کے پاس سے آسمان سے اُترنے والا ہے اور اپنا نیا نام اُس پر لِکُھوں گا۔
    13جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔
    لَودِیکیہ کی کلِیسیا کو پَیغام
    14اور لَودیکیہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ
    جو آمِین اور سچّا اور بَرحق گواہ اور خُدا کی خِلقت کا مَبدا ہے وہ یہ فرماتا ہے کہ۔ 15مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہُوں کہ نہ تُو سرد ہے نہ گرم ۔ کاش کہ تُو سرد یا گرم ہوتا۔ 16پس چُونکہ تُو نہ تو گرم ہے نہ سرد بلکہ نِیم گرم ہے اِس لِئے مَیں تُجھے اپنے مُنہ سے نِکال پَھینکنے کو ہُوں۔ 17اور چُونکہ تُو کہتا ہے کہ مَیں دَولت مند ہُوں اور مالدار بن گیا ہُوں اور کِسی چِیز کا مُحتاج نہیں اور یہ نہیں جانتا کہ تُو کمبخت اور خوار اور غرِیب اور اندھا اور ننگا ہے۔ 18اِس لِئے مَیں تُجھے صلاح دیتا ہُوں کہ مُجھ سے آگ میں تپایا ہُؤا سونا خرِید لے تاکہ دَولت مند ہو جائے اور سفید پوشاک لے تاکہ تُو اُسے پہن کر ننگے پن کے ظاہِر ہونے کی شرمِندگی نہ اُٹھائے اور آنکھوں میں لگانے کے لِئے سُرمہ لے تاکہ تُو بِینا ہو جائے۔ 19مَیں جِن جِن کو عزِیز رکھتا ہُوں اُن سب کو ملامت اور تنبِیہ کرتا ہُوں ۔ پس سرگرم ہو اور تَوبہ کر۔ 20دیکھ مَیں دروازہ پر کھڑا ہُؤا کھٹکھٹاتا ہُوں ۔ اگر کوئی میری آواز سُن کر دروازہ کھولے گاتو مَیں اُس کے پاس اندر جا کر اُس کے ساتھ کھانا کھاؤں گااور وہ میرے ساتھ۔ 21جو غالِب آئے مَیں اُسے اپنے ساتھ اپنے تخت پر بِٹھاؤں گا۔ جِس طرح مَیں غالِب آ کر اپنے باپ کے ساتھ اُس کے تخت پر بَیٹھ گیا۔
    22جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔

  4. 1اِفِسُس کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ
    جو اپنے دہنے ہاتھ میں سِتارے لِئے ہُوئے ہے اور سونے کے ساتوں چراغ دانوں میں پِھرتا ہے وہ یہ فرماتا ہے کہ۔ 2مَیں تیرے کام اور تیری مشقّت اور تیرا صبر تو جانتا ہُوں اور یہ بھی کہ تُو بدوں کو دیکھ نہیں سکتا اور جو اپنے آپ کو رسُول کہتے ہیں اور ہیں نہیں تُو نے اُن کو آزما کر جُھوٹا پایا۔ 3اور تُو صبر کرتا ہے اور میرے نام کی خاطِر مُصِیبت اُٹھاتے اُٹھاتے تھکا نہیں۔ 4مگر مُجھ کو تُجھ سے یہ شِکایت ہے کہ تُو نے اپنی پہلی سی مُحبّت چھوڑ دی۔ 5پس خیال کر کہ تُو کہاں سے گِرا ہے اور تَوبہ کر کے پہلے کی طرح کام کر اور اگر تُو تَوبہ نہ کرے گا تو مَیں تیرے پاس آ کر تیرے چراغ دان کو اُس کی جگہ سے ہٹا دُوں گا۔ 6البتّہ تُجھ میں یہ بات تو ہے کہ تُو نِیکُلیوں کے کاموں سے نفرت رکھتا ہے جِن سے مَیں بھی نفرت رکھتا ہُوں۔
    7جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔
    جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے درخت میں سے جو خُدا کے فِردوس میں ہے پَھل کھانے کو دُوں گا۔
    سمُرنہ کی کلِیسیا کو پَیغام
    8اور سمُر نہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ
    جو اَوّل و آخِر ہے اور جو مَر گیا تھا اور زِندہ ہُؤا وہ یہ فرماتا ہے کہ۔ 9مَیں تیری مُصِیبت اور غرِیبی کو جانتا ہُوں (مگر تُو دَولت مند ہے) اور جو اپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں بلکہ شَیطان کی جماعت ہیں اُن کے لَعن طَعن کو بھی جانتا ہُوں۔ 10جو دُکھ تُجھے سہنے ہوں گے اُن سے خَوف نہ کر ۔ دیکھو اِبلِیس تُم میں سے بعض کو قَید میں ڈالنے کو ہے تاکہ تُمہاری آزمایش ہو اور دس دِن تک مُصِیبت اُٹھاؤ گے ۔ جان دینے تک بھی وفادار رہ تو مَیں تُجھے زِندگی کا تاج دُوں گا۔
    11جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔
    جو غالِب آئے اُس کو دُوسری مَوت سے نُقصان نہ پُہنچے گا۔
    پرگُمن کی کلِیسیا کو پَیغام
    12اور پِرگُمن کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ
    جِس کے پاس دو دھاری تیز تلوار ہے وہ فرماتا ہے کہ۔ 13مَیں یہ تو جانتا ہُوں کہ تُو شَیطان کی تخت گاہ میں سکُونت رکھتا ہے اور میرے نام پر قائِم رہتا ہے اور جِن دِنوں میں میرا وفادار شہِید انِتپا س تُم میں اُس جگہ قتل ہُؤا تھا جہاں شَیطان رہتا ہے اُن دِنوں میں بھی تُو نے مُجھ پر اِیمان رکھنے سے اِنکار نہیں کِیا۔ 14لیکن مُجھے چند باتوں کی تُجھ سے شِکایت ہے ۔ اِس لِئے کہ تیرے ہاں بعض لوگ بلعا م کی تعلِیم ماننے والے ہیں جِس نے بلق کو بنی اِسرائیل کے سامنے ٹھوکر کِھلانے والی چِیز رکھنے کی تعلِیم دی یعنی یہ کہ وہ بُتوں کی قُربانِیاں کھائیں اور حرام کاری کریں۔ 15چُنانچہ تیرے ہاں بھی بعض لوگ اِسی طرح نِیکُلیوں کی تعلِیم کے ماننے والے ہیں۔ 16پس تَوبہ کر ۔ نہیں تو مَیں تیرے پاس جلد آ کر اپنے مُنہ کی تلوار سے اُن کے ساتھ لڑُوں گا۔
    17جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔
    جو غالِب آئے مَیں اُسے پوشِیدہ مَنّ میں سے دُوں گا اور ایک سفید پتّھر دُوں گا ۔ اُس پتّھر پرایک نیا نام لِکھا ہُؤا ہو گا جِسے اُس کے پانے والے کے سِوا کوئی نہ جانے گا۔
    تھواتیرہ کی کلِیسیا کو پَیغام
    18اور تھواتِیر ہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ
    خُدا کا بیٹا جِس کی آنکھیں آگ کے شُعلہ کی مانِند اور پاؤں خالِص پِیتل کی مانِند ہیں یہ فرماتا ہے کہ۔ 19مَیں تیرے کاموں اور مُحبّت اور اِیمان اور خِدمت اورصبر کو تو جانتا ہُوں اور یہ بھی کہ تیرے پِچھلے کام پہلے کاموں سے زِیادہ ہیں۔ 20پر مُجھے تُجھ سے یہ شِکایت ہے کہ تُو نے اُس عَورت اِیزبِل کو رہنے دِیا ہے جو اپنے آپ کو نبِّیہ کہتی ہے اور میرے بندوں کو حرام کاری کرنے اور بُتوں کی قُربانِیاں کھانے کی تعلِیم دے کر گُمراہ کرتی ہے۔ 21مَیں نے اُس کو تَوبہ کرنے کی مُہلت دی مگر وہ اپنی حرام کاری سے تَوبہ کرنا نہیں چاہتی۔ 22دیکھ مَیں اُس کو بِستر پر ڈالتا ہُوں اور جو اُس کے ساتھ زِنا کرتے ہیں اگر اُس کے سے کاموں سے تَوبہ نہ کریں تو اُن کو بڑی مُصِیبت میں پھنساتا ہُوں۔ 23اور اُس کے فرزندوں کو جان سے مارُوں گا اور سب کلِیسیاؤں کو معلُوم ہو گا کہ گُردوں اور دِلوں کا جانچنے والا مَیں ہی ہُوں اور مَیں تُم میں سے ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مُوافِق بدلہ دُوں گا۔
    24مگر تُم تھوا تِیرہ کے باقی لوگوں سے جو اُس تعلِیم کو نہیں مانتے اور اُن باتوں سے جِنہیں لوگ شَیطان کی گہری باتیں کہتے ہیں ناواقِف ہو یہ کہتا ہُوں کہ تُم پر اَور بوجھ نہ ڈالُوں گا۔ 25البتّہ جو تُمہارے پاس ہے میرے آنے تک اُس کو تھامے رہو۔ 26جوغالِب آئے اور جو میرے کاموں کے مُوافِق آخِر تک عمل کرے مَیں اُسے قَوموں پر اِختیار دُوں گا۔ 27اور وہ لوہے کے عَصا سے اُن پر حُکومت کرے گا ۔ جِس طرح کہ کُمہار کے برتن چکنا چُور ہو جاتے ہیں ۔ چُنانچہ مَیں نے بھی اَیسا اِختیار اپنے باپ سے پایا ہے۔ 28اور مَیں اُسے صُبح کا سِتارہ دُوں گا۔
    29جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔

  5. 1یِسُو ع مسِیح کا مُکاشفہ جو اُسے خُدا کی طرف سے اِس لِئے ہُؤا کہ اپنے بندوں کو وہ باتیں دِکھائے جِن کا جلد ہونا ضرُور ہے اور اُس نے اپنے فرِشتہ کو بھیج کر اُس کی معرفت اُنہیں اپنے بندہ یُو حنّا پر ظاہِر کِیا۔ 2جِس نے خُدا کے کلام اور یِسُو ع مسِیح کی گواہی کی یعنی اُن سب چِیزوں کی جو اُس نے دیکھی تِھیں شہادت دی۔ 3اِس نبُوّت کی کِتاب کا پڑھنے والا اور اُس کے سُننے والے اور جو کُچھ اِس میں لِکھا ہے اُس پر عمل کرنے والے مُبارک ہیں کیونکہ وقت نزدِیک ہے۔
    سات کلِیسیاؤں کے نام سلام
    4یُوحنّا کی جانِب سے اُن سات کلِیسیاؤں کے نام جو آسیہ میں ہیں ۔
    اُس کی طرف سے جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے اور اُن سات رُوحوں کی طرف سے جو اُس کے تخت کے سامنے ہیں۔ 5اور یِسُو ع مسِیح کی طرف سے جو سچّا گواہ اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا اور دُنیا کے بادشاہوں پر حاکِم ہے تُمہیں فضل اور اِطمِینان حاصِل ہوتا رہے ۔
    جو ہم سے مُحبّت رکھتا ہے اور جِس نے اپنے خُون کے وسِیلہ سے ہم کو گُناہوں سے خلاصی بخشی۔ 6اور ہم کو ایک بادشاہی بھی اور اپنے خُدا اور باپ کے لِئے کاہِن بھی بنا دِیا ۔ اُس کا جلال اور سلطنت ابدُالآباد رہے ۔ آمِین۔
    7دیکھو وہ بادِلوں کے ساتھ آنے والا ہے اور ہر ایک آنکھ اُسے دیکھے گی اور جنہوں نے اُسے چھیدا تھا وہ بھی دیکھیں گے اور زمِین پر کے سب قبِیلے اُس کے سبب سے چھاتی پِیٹیں گے ۔ بیشک ۔ آمِین۔
    8خُداوند خُدا جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے یعنی قادِرِ مُطلق فرماتا ہے کہ مَیں الفا اور اومیگا ہُوں۔
    مسِیح کی ایک رویا
    9مَیں یُو حنّا جو تُمہارا بھائی اور یِسُو ع کی مُصِیبت اور بادشاہی اور صبر میں تُمہارا شرِیک ہُوں خُدا کے کلام اور یِسُو ع کی نِسبت گواہی دینے کے باعِث اُس ٹاپُو میں تھا جو پتمُس کہلاتا ہے۔ 10کہ خُداوند کے دِن رُوح میں آ گیا اور اپنے پِیچھے نرسِنگے کی سی یہ ایک بڑی آواز سُنی۔ 11کہ جو کُچھ تُو دیکھتا ہے اُس کو کِتاب میں لِکھ کر ساتوں کلِیسیاؤں کے پاس بھیج دے یعنی اِفِسُس اور سمُر نہ اور پِرگمُن اور تھوا تِیرہ اور سردِیس اور فِلَدِلفیہ اور لَودِیکیہ میں۔
    12مَیں نے اُس آواز دینے والے کو دیکھنے کے لِئے مُنہ پھیرا جِس نے مُجھ سے کہا تھا اور پِھر کر سونے کے سات چراغ دان دیکھے۔ 13اور اُن چراغ دانوں کے بیچ میں آدم زاد سا ایک شخص دیکھا جو پاؤں تک کا جامہ پہنے اور سونے کا سِینہ بند سِینہ پر باندھے ہُوئے تھا۔ 14اُس کا سر اور بال سفید اُون بلکہ برف کی مانِند سفید تھے اور اُس کی آنکھیں آگ کے شُعلہ کی مانِند تِھیں۔ 15اور اُس کے پاؤں اُس خالِص پِیتل کے سے تھے جو بھٹّی میں تپایا گیا ہو اور اُس کی آواز زور کے پانی کی سی تھی۔ 16اور اُس کے دہنے ہاتھ میں سات سِتارے تھے اور اُس کے مُنہ میں سے ایک دو دھاری تیز تلوار نِکلتی تھی اور اُس کاچِہرہ اَیسا چمکتا تھا جَیسے تیزی کے وقت آفتاب۔ 17جب مَیں نے اُسے دیکھا تو اُس کے پاؤں میں مُردہ سا گِر پڑا اور اُس نے یہ کہہ کر مُجھ پر اپنا دہنا ہاتھ رکھّا کہ خَوف نہ کر ۔ مَیں اوّل اور آخِر۔ 18اور زِندہ ہُوں ۔ مَیں مَر گیا تھا اور دیکھ ابدُالآباد زِندہ رہُوں گااور مَوت اور عالَمِ ارواح کی کُنجِیاں میرے پاس ہیں۔ 19پس جو باتیں تُو نے دیکِھیں اور جو ہیں اور جو اِن کے بعد ہونے والی ہیں اُن سب کو لِکھ لے۔ 20یعنی اُن سات سِتاروں کا بھید جِنہیں تُو نے میرے دہنے ہاتھ میں دیکھا تھا اور اُن سونے کے سات چراغ دانوں کا ۔ وہ سات سِتارے تو سات کلِیسیاؤں کے فرِشتے ہیں اور وہ سات چراغ دان کلِیسیائیں ہیں۔

  6. Kya bakwas hai veda sab samaye keliye hai yoga ayurveda is for all time not for that time. There is no value of statement that God sent a book in every passage of time because there is 4 books sent to you and 1 lakh prophets sent to every community according to Quran. In fact Quran is for the past time but bhagvat geeta, veda are for all time.

  7. Islam ya sekhta hy k tamam insan barabr hy Jo b ho idr Dr sab ka jadu lagna wali orat ka example Dana bht galat bt hy kitny insan hy Jo ya km krtyy hn or halal kamayi sy razq maty hn ya in logo ko hurt kryga

  8. Sputnik is a Russia made vaccine made by company Gamaleya named after first artificial earth satellite sent by Russia in Space in 1957. It is a vector vaccine that uses two different strains of adenovirus-rAd26 andrAd5 ( one for each dose) that serves as a vehicle/vector to transmit the covid-19 spike protein into the blood. It has about 92 % efficacy and is given as two doses 21 days apart. It is approved for adults above age of 18 and costs 12,000 rupees for complete course. While cansino and sinopharm (China based vaccines) are being given to people above age of 50 for free at #1166, Sputnik is an option for young people who can afford it.

    Sputnik vaccine will be available in Lahore and Islamabad from later today

    Lahore: Doctors Hospital, Hameed Latif, Shaukat Khanum, Chugtai Lab

    Islamabad: Shifa, IDC, Chugtai Lab

    Registration at website is compulsory to get vaccinated.

    1. Price for Russian Sputnik V (Dose 1 and Dose 2) is: 12,250Rs/-
    2. There will be NO vaccine administration charges.
    3. Total amount shall be collected at the time of first dose.
    4. NO blue card or any other discount is applicable
    5. Patient will register him/herself at http://www.chughtailab.com.
    6. Patients will come along with the sms that they have received from Chughtai lab at registration time.
    7. Age limit is 18 years or above.
    8. Timings: Monday to Sunday, 9:00 AM to 9:00 PM.
    9. CNIC is compulsory at visit.
    10. Patient will get second dose after 21 days of first dose.
    Please spread the message.

    #SaveEverySoul
    #WelcomeSputnikPakistan

  9. قران بئ اخیر کتاب نهئ وسکتا قران بعد اقدس خدا کي طراف ایاُ خدا ج 1000) سال خداکي طرف نهیا زمان کلئ مقدس کتاب بیچیدي یهئ .

  10. داکتر نایک اپ یهئ نیسکتا کي صرف جنت مسلیم لوګ کیلهئ یهئ. جوټ یهئ. قران بهئ
    لیکایهئ قران اخیري کتاب نهئ قران 1000) سال بعد دوباره خدا کهلئ صود کرتایهئ

Choose A Format
Personality quiz
Series of questions that intends to reveal something about the personality
Trivia quiz
Series of questions with right and wrong answers that intends to check knowledge
Poll
Voting to make decisions or determine opinions
Story
Formatted Text with Embeds and Visuals
List
The Classic Internet Listicles
Countdown
The Classic Internet Countdowns
Open List
Submit your own item and vote up for the best submission
Ranked List
Upvote or downvote to decide the best list item
Meme
Upload your own images to make custom memes
Video
Youtube, Vimeo or Vine Embeds
Audio
Soundcloud or Mixcloud Embeds
Image
Photo or GIF
Gif
GIF format