This confused young man also confused Dr. Zakir Naik


0
This confused young man also confused Dr. Zakir Naik



This confused young man also confused Dr. Zakir Naik
A medical doctor by professional training, Dr Zakir Naik is renowned as a dynamic international orator on Islaam and Comparative Religion. He is the President of Islaamic Research Foundation International. He is 54 years old. Dr Zakir clarifies Islaamic viewpoints and clears misconceptions about Islaam, using the Qur’aan, authentic Hadith and other religious Scriptures as a basis, in conjunction with reason, logic and scientific facts. He is popular for his critical analysis and convincing answers to challenging questions posed by audiences after his public talks.

In the last 24 years Dr Zakir Naik has delivered over 2,000 public talks in the USA, Canada, UK, Italy, France, Turkey, Saudi Arabia, UAE, Kuwait, Qatar, Bahrain, Oman, Egypt, Yemen, Australia, New Zealand, South Africa, Botswana, Nigeria, Ghana, Gambia, Algeria, Morocco, Sri Lanka, Brunei, Malaysia, Singapore, Indonesia, Hong Kong, China, Japan, South Korea, Thailand, Guyana (South America), Trinidad, Mauritius, Maldives and many other countries, in addition to numerous public talks in India. In April 2012, his public talk in Kishanganj, Bihar, in India was Alhamdulillah attended by over one million people being one of the largest gathering in the world for any religious lecture by a single orator.

Amongst the billion plus population of India Alhamdulillah Dr Zakir Naik was ranked No. 82 in the ‘100 Most Influential People in India’ list published by Indian Express in the year 2009 and ranked No. 89 in 2010. He was ranked No. 3 in the ‘Top 10 Spiritual Gurus of India in 2009’ and topped this list in 2010. He is ranked in the top 70 list of the ‘500 Most Influential Muslims in the World’ published by Georgetown University in the last 10 editions from 2011 to 2020. In the list of The Top 100 Cumulative Influence over 10 years Dr Zakir was ranked No. 79.

By Allaah’s help, he has successfully participated in several symposia and dialogues with prominent personalities of other faiths. His public dialogue with Dr William Campbell (of USA) on the topic “The Qur’aan and the Bible in the light of Science” held in Chicago, USA, in April, 2000 was a resounding success. His inter-faith Dialogue with prominent Hindu Guru Sri Sri Ravi Shankar on the topic “The Concept of God in Hinduism and Islaam in the light of Sacred Scriptures” held at Palace Grounds, Bangalore, on 21st Jan. 2006, was highly appreciated by people of both the faiths.

Shaikh Ahmed Deedat, the world famous orator on Islaam and Comparative Religion, who had called Dr Zakir “Deedat Plus” in 1994, presented a plaque in May 2000 with the engraving “Awarded to Dr Zakir Abdul Karim Naik for his achievement in the field of Da’wah and the study of Comparative Religion”. “Son what you have done in 4 years had taken me 40 years to accomplish, Alhamdulillaah”.
Dr Zakir Naik appears regularly on many international TV channels in more than 175 countries of the world. More than a hundred of his talks, dialogues, debates and symposia are available on DVDs. He has authored many books on Islaam and Comparative Religion.
i use Footage And image | Credit
videoblocks
shutterstock
videos.pexels
videvo
unsplash
pixabay
Background Music Credit: Youtube Music library
All credit for contents used in this video goes to the right owner.
FAIR-USE COPYRIGHT Disclaimer
This video meant for educational purpose only we not own any copyrights all the rights go to their respective owners.

Copyright Disclaimer Under Section 107 of the Copyright Act 1976, allowance is made for “fair use” for purposes such as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship, and research. Fair use is a use permitted by copyright statute that might otherwise be infringing. Non-profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use.
DISCLAIMER: This Channel DOES NOT Promote or encourage Any illegal activities , all contents provided by This Channel is meant for EDUCATIONAL PURPOSE only .

Copyright Disclaimer : Under Section 107 of the Copyright Act 1976, allowance is made for “fair use” for purposes such as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship, and research. Fair use is a use permitted by copyright statute that might otherwise be infringing. Non-profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use.
Question’s Eye Solve
1) dr zakir naik
2) dr zakir naik 2021
3) zakir naik
4) zakir naik 2021
5) dr zakir naik 2021 urdu
6) dr.zakir naik
7) DR Zakir Naik urdu/hindi 2021
8) dr zakir naik question answer
9) Ham Dam
10)dr zakir naik question answer 2021

source


Like it? Share with your friends!

0

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
0
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win
Ham Dam

36 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  1. کدو کے بے شمار طبّی فوائد:

    ہمارے ہاں بالعموم پروٹین کی حامل غذاﺅں یعنی گوشت اور دودھ وغیرہ کو اعلیٰ جبکہ سبزیوں اور دالوں کو ادنیٰ تصور کیا جاتا ہے۔ تمام غذائیں ایک انمول تحفہ ہیں اور ان کے ہر گروپ میں مختلف اجزاءپائے جاتے ہیں جن کا متوازن استعمال جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ سبزیوں میں سے ایک ”کدو“ بھی ہے جو لذت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بے پناہ طبی خواص بھی رکھتا ہے۔ کدو جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھتا ہے اور بخار میں بھی مفید ہے۔ اس کے علاوہ بادی پن اور بلغم کی شکایت سے دوچار مریض اگر کدو کے ساتھ سیاہ زیرہ اور بڑی الائچی ملا کر استعمال کریں تو انہیں ان شکایات سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں کدو کھانے سے پیاس کی شدت میں کمی ہوتی ہے۔ معدہ کی تیزابیت دور ہوتی ہے اور دل و دماغ کو تقویت ملتی ہے ۔ہلکی آنچ پر پکایا ہوا کدو کا سالن ایک قدرتی ٹانک ہے اس میں نہ صرف فولاد بلکہ کیلشیم، پوٹاشیم، وٹامن اے اور بی بھی پائے جاتے ہیں۔ اس میں بہت سے معدنی اور روغنی نمکیات بھی مناسب مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ محنت اور مشقت کرنے والے افراد کے لیے کدو اور چنے کی دال کا پکوان بہترین اور قوت بخش غدا کی حیثیت رکھتا ہے۔ گوشت اور گرم مصالحے کی آمیزش سے نہ صرف اس کی تاثیر میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے بلکہ ذائقہ بھی بہتر ہو جاتا ہے۔ طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کا گوشت کے ساتھ استعمال زیادہ مفید بتایا گیا ہے۔ دالوں میں جس طرح مونگ کی دال بے ضرر تصور کی جاتی ہے اس طرح کدو کو سبزیوں میں بے ضرر خیال کیا جاتا ہے ذیل میں دیئے گئے چند ٹوٹکوں سے اس کی افادیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    سرسام:
    سرسام سر میں ورم کی ایک بیماری ہے جس کے لیے کدو بہت مفید ہے۔ کدو کا رس لے کر اس میں ہموزن روغن کنجد (تلوں کا تیل) شامل کر کے تانبے یا پیتل کی دیگچی میں ڈال کر اس حد تک پکائیں کہ تمام رس جل جائے اور محض تیل باقی رہ جائے۔ اسے کپڑے سے چھان لیں اور تیل کو بوتل میں محفوظ کر لیں۔ بوقت ضرورت تھوڑے تھوڑے وقفے سے مریض کے سر پر مالش کر کے گرم کی ہوئی روئی باندھیں۔ اس سے نہ صرف سرسام میں افاقہ ہو گا بلکہ بے خوابی اور عام سردرد وغیرہ کے لیے بھی مفید ہے۔

    کان کا درد:
    کان میں پانی چلا جائے یا پھر کان میں درد ہو تو اس کے لیے بھی کدو کا پانی پینے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی پنساری سے روغن گل لے کر اس میں اس کے ہم وزن کدو کا پانی ملا لیں۔ کان کے درد کی صورت میں اس محلول کے دو سے تین قطرے کان میں ڈالیں، انشاءاللہ درد سے راحت ملے گی۔

    بچھو کا ڈنک:
    گھر میں کسی کو بچھو ڈنگ مار دے اور فوری طور پر ڈاکٹر تک پہنچنے میں دشواری ہو تو آپ کدو کے گودے سے مریض کو فوری طبی امداد دے سکتے ہیں۔ ڈنگ والی جگہ پر کدو کے گودے کا اچھی طرح لیپ لگا دیں اور ساتھ ہی اسے اس کا پانی بھی پلائیں، زہر کا اثر زائل ہو جائے گا۔

    سر کی خشکی:
    روز مرہ زندگی میں خواتین و حضرات کو سر کی خشکی کا سامنا رہتا ہے۔ جس کے علاج کی خاطر وہ طرح طرح کے شیمپو استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کو بھی یہی مسئلہ در پیش ہے تو بازار سے روغن کدو لیں اور اس سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔ اس کے علاوہ آپ دودھ میں روغن کدو کا ایک چمچ ڈال کر استعمال کیا کریں اس سے نہ صرف خشکی کا خاتمہ ہوگا بلکہ یہ دل کی دھڑکن کو بھی معمول پر رکھنے کے لیے مفید ٹوٹکہ ہے۔

    دانت کا درد:
    دانت اگر درد کرنا شروع کر دے تو پھر کہیں چین نہیں ملتا اور مریض اس سے نجات کے لیے طرح طرح کے ٹوٹکے آزماتا نظر آتا ہے۔ اگر آپ بھی اسی صورت حال سے دوچار ہیں تو کدو کا گودا پانچ تولے اور لہسن ایک تولہ لے کر دونوں کو ایک سیر پانی ڈال کر خوب اچھی طرح سے پکائیں جب گودا آدھا جل جائے تو اسی نیم گرم پانی سے کلیاں کریں۔ انشاءاللہ درد میں افاقہ ہوگا۔

    حلق کا ورم:
    آواز کا بیٹھ جانا معمول کی شکایت ہے جو کسی بھی شخص کو ہو سکتی ہے۔ اس سے چھٹکارے کے لیے کدو کے نیم گرم پانی سے غرارے کریں۔ اس کے علاوہ یہ ٹوٹکہ خناق جیسی تکلیف میںبھی راحت کا باعث بنتا ہے۔

    ہونٹ پھٹنا:
    مغز تخم، کدو شیریں۔ گوند کتیرا، ہموزن لے کر خوب باریک کر کے رات کو سوتے وقت ہونٹوں پر لگا کر سو جائیں۔ صبح گرم پانی سے صاف کر لیں۔ ایک ہی مرتبہ کے استعمال سے فائدہ ہوگا۔

    بدن کی پھنسیاں:
    کدو کا پانی پھنسیوں پر لگانے سے پھنسیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے گودے کا لیپ بھی فائدہ مند ہے۔ کدو کا چھلکا زخموں کے لیے مفید حیثیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے اس کے چھلکوں کو سائے میں خشک کریں اس کے بعد ان کی مطلوبہ مقدار لے کر انہیں جلا دیں اور باریک کر کے محفوظ کر لیں۔ یہ راکھ زخم پر چھڑکنے سے زخم جلد مندمل ہو گا۔

    بواسیر:
    کدو کے چھلکے میں قدرت نے بواسیر جیسی تکلیف کے لیے بھی شفا رکھی ہے۔ اس کے لیے کدو کے حسب ِضرورت چھلکے لے کر انہیں سائے میں خشک کر کے باریک پیس لیں۔ دن میں صبح و شام چھ ماشہ سے ایک تولہ تک ان چھلکوں کو تازہ پانی کے ساتھ کھالیں۔ اسے اپنا معمول بنا لیں۔ یہ ٹوٹکہ نہ صرف بواسیر کے مریضوں کے لیے مفید ہے بلکہ خونی پیچش کے لیے بھی لاجواب ہے۔

    زیادہ چھینکیں آنا:
    اگر چھینکیں مار مار کر آپ کا برا حال ہو جاتا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے بھی آپ روغن کدو کے دو چار قطرے ناک میں ٹپکا دیں۔ چھینکیں آنا بند ہو جائیں گی۔ قبض کشا: ایسے مریض جن کو دائمی قبض کی شکایت ہو، وہ بھی کدو سے مستفید ہو سکتے ہیں کدو کے استعمال سے مرض کے رفع ہونے میں مدد ملتی ہے۔

    مکھیوں سے بچاﺅ:
    کسی چیز کو مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اس پر کدو کی بیل کے پتے رکھ دیں۔ مکھیاں ہرگز اس پر نہ بیٹھیں گی ۔اگر شیرخوار بچوں پر دن کے وقت کدو کے پتے رکھ دیئے جائیں تو بھی مکھیوں سے محفوظ رہیں گے۔

    یرقان:
    ایک عدو کدو لے کر اسے ہلکی آگ میں جلا کر بھرتا بنا لیں اور اس کا پانی نچوڑ کر اس میں تھوڑی سی مصری ملا کر پی لیں۔ یرقان کے لیے بہت مفید ہے.

  2. کدو کے بے شمار طبّی فوائد:

    ہمارے ہاں بالعموم پروٹین کی حامل غذاﺅں یعنی گوشت اور دودھ وغیرہ کو اعلیٰ جبکہ سبزیوں اور دالوں کو ادنیٰ تصور کیا جاتا ہے۔ تمام غذائیں ایک انمول تحفہ ہیں اور ان کے ہر گروپ میں مختلف اجزاءپائے جاتے ہیں جن کا متوازن استعمال جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ سبزیوں میں سے ایک ”کدو“ بھی ہے جو لذت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بے پناہ طبی خواص بھی رکھتا ہے۔ کدو جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھتا ہے اور بخار میں بھی مفید ہے۔ اس کے علاوہ بادی پن اور بلغم کی شکایت سے دوچار مریض اگر کدو کے ساتھ سیاہ زیرہ اور بڑی الائچی ملا کر استعمال کریں تو انہیں ان شکایات سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں کدو کھانے سے پیاس کی شدت میں کمی ہوتی ہے۔ معدہ کی تیزابیت دور ہوتی ہے اور دل و دماغ کو تقویت ملتی ہے ۔ہلکی آنچ پر پکایا ہوا کدو کا سالن ایک قدرتی ٹانک ہے اس میں نہ صرف فولاد بلکہ کیلشیم، پوٹاشیم، وٹامن اے اور بی بھی پائے جاتے ہیں۔ اس میں بہت سے معدنی اور روغنی نمکیات بھی مناسب مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ محنت اور مشقت کرنے والے افراد کے لیے کدو اور چنے کی دال کا پکوان بہترین اور قوت بخش غدا کی حیثیت رکھتا ہے۔ گوشت اور گرم مصالحے کی آمیزش سے نہ صرف اس کی تاثیر میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے بلکہ ذائقہ بھی بہتر ہو جاتا ہے۔ طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کا گوشت کے ساتھ استعمال زیادہ مفید بتایا گیا ہے۔ دالوں میں جس طرح مونگ کی دال بے ضرر تصور کی جاتی ہے اس طرح کدو کو سبزیوں میں بے ضرر خیال کیا جاتا ہے ذیل میں دیئے گئے چند ٹوٹکوں سے اس کی افادیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    سرسام:
    سرسام سر میں ورم کی ایک بیماری ہے جس کے لیے کدو بہت مفید ہے۔ کدو کا رس لے کر اس میں ہموزن روغن کنجد (تلوں کا تیل) شامل کر کے تانبے یا پیتل کی دیگچی میں ڈال کر اس حد تک پکائیں کہ تمام رس جل جائے اور محض تیل باقی رہ جائے۔ اسے کپڑے سے چھان لیں اور تیل کو بوتل میں محفوظ کر لیں۔ بوقت ضرورت تھوڑے تھوڑے وقفے سے مریض کے سر پر مالش کر کے گرم کی ہوئی روئی باندھیں۔ اس سے نہ صرف سرسام میں افاقہ ہو گا بلکہ بے خوابی اور عام سردرد وغیرہ کے لیے بھی مفید ہے۔

    کان کا درد:
    کان میں پانی چلا جائے یا پھر کان میں درد ہو تو اس کے لیے بھی کدو کا پانی پینے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی پنساری سے روغن گل لے کر اس میں اس کے ہم وزن کدو کا پانی ملا لیں۔ کان کے درد کی صورت میں اس محلول کے دو سے تین قطرے کان میں ڈالیں، انشاءاللہ درد سے راحت ملے گی۔

    بچھو کا ڈنک:
    گھر میں کسی کو بچھو ڈنگ مار دے اور فوری طور پر ڈاکٹر تک پہنچنے میں دشواری ہو تو آپ کدو کے گودے سے مریض کو فوری طبی امداد دے سکتے ہیں۔ ڈنگ والی جگہ پر کدو کے گودے کا اچھی طرح لیپ لگا دیں اور ساتھ ہی اسے اس کا پانی بھی پلائیں، زہر کا اثر زائل ہو جائے گا۔

    سر کی خشکی:
    روز مرہ زندگی میں خواتین و حضرات کو سر کی خشکی کا سامنا رہتا ہے۔ جس کے علاج کی خاطر وہ طرح طرح کے شیمپو استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کو بھی یہی مسئلہ در پیش ہے تو بازار سے روغن کدو لیں اور اس سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔ اس کے علاوہ آپ دودھ میں روغن کدو کا ایک چمچ ڈال کر استعمال کیا کریں اس سے نہ صرف خشکی کا خاتمہ ہوگا بلکہ یہ دل کی دھڑکن کو بھی معمول پر رکھنے کے لیے مفید ٹوٹکہ ہے۔

    دانت کا درد:
    دانت اگر درد کرنا شروع کر دے تو پھر کہیں چین نہیں ملتا اور مریض اس سے نجات کے لیے طرح طرح کے ٹوٹکے آزماتا نظر آتا ہے۔ اگر آپ بھی اسی صورت حال سے دوچار ہیں تو کدو کا گودا پانچ تولے اور لہسن ایک تولہ لے کر دونوں کو ایک سیر پانی ڈال کر خوب اچھی طرح سے پکائیں جب گودا آدھا جل جائے تو اسی نیم گرم پانی سے کلیاں کریں۔ انشاءاللہ درد میں افاقہ ہوگا۔

    حلق کا ورم:
    آواز کا بیٹھ جانا معمول کی شکایت ہے جو کسی بھی شخص کو ہو سکتی ہے۔ اس سے چھٹکارے کے لیے کدو کے نیم گرم پانی سے غرارے کریں۔ اس کے علاوہ یہ ٹوٹکہ خناق جیسی تکلیف میںبھی راحت کا باعث بنتا ہے۔

    ہونٹ پھٹنا:
    مغز تخم، کدو شیریں۔ گوند کتیرا، ہموزن لے کر خوب باریک کر کے رات کو سوتے وقت ہونٹوں پر لگا کر سو جائیں۔ صبح گرم پانی سے صاف کر لیں۔ ایک ہی مرتبہ کے استعمال سے فائدہ ہوگا۔

    بدن کی پھنسیاں:
    کدو کا پانی پھنسیوں پر لگانے سے پھنسیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے گودے کا لیپ بھی فائدہ مند ہے۔ کدو کا چھلکا زخموں کے لیے مفید حیثیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے اس کے چھلکوں کو سائے میں خشک کریں اس کے بعد ان کی مطلوبہ مقدار لے کر انہیں جلا دیں اور باریک کر کے محفوظ کر لیں۔ یہ راکھ زخم پر چھڑکنے سے زخم جلد مندمل ہو گا۔

    بواسیر:
    کدو کے چھلکے میں قدرت نے بواسیر جیسی تکلیف کے لیے بھی شفا رکھی ہے۔ اس کے لیے کدو کے حسب ِضرورت چھلکے لے کر انہیں سائے میں خشک کر کے باریک پیس لیں۔ دن میں صبح و شام چھ ماشہ سے ایک تولہ تک ان چھلکوں کو تازہ پانی کے ساتھ کھالیں۔ اسے اپنا معمول بنا لیں۔ یہ ٹوٹکہ نہ صرف بواسیر کے مریضوں کے لیے مفید ہے بلکہ خونی پیچش کے لیے بھی لاجواب ہے۔

    زیادہ چھینکیں آنا:
    اگر چھینکیں مار مار کر آپ کا برا حال ہو جاتا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے بھی آپ روغن کدو کے دو چار قطرے ناک میں ٹپکا دیں۔ چھینکیں آنا بند ہو جائیں گی۔ قبض کشا: ایسے مریض جن کو دائمی قبض کی شکایت ہو، وہ بھی کدو سے مستفید ہو سکتے ہیں کدو کے استعمال سے مرض کے رفع ہونے میں مدد ملتی ہے۔

    مکھیوں سے بچاﺅ:
    کسی چیز کو مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اس پر کدو کی بیل کے پتے رکھ دیں۔ مکھیاں ہرگز اس پر نہ بیٹھیں گی ۔اگر شیرخوار بچوں پر دن کے وقت کدو کے پتے رکھ دیئے جائیں تو بھی مکھیوں سے محفوظ رہیں گے۔

    یرقان:
    ایک عدو کدو لے کر اسے ہلکی آگ میں جلا کر بھرتا بنا لیں اور اس کا پانی نچوڑ کر اس میں تھوڑی سی مصری ملا کر پی لیں۔ یرقان کے لیے بہت مفید ہے.

  3. QUR'ANIC ACCOUNT OF CREATION
    VS
    THE THEORY OF EVOLUTION
    CREATION OR EVOLUTION
    A COMPARISION OF THE ARGUMENT

    (1)
    Dr. MOHAMMAD LAEEQUE NADWI

    The theory of evolution asserts that living things are not part of creation or intelligent design, but a coincidental causes and natural process.

    However, this " theory of Evolution by natural selection " gave rise to doubts from the very beginning.

    1- What were the " natural and coincidental variations " referred to by Darwin ?
    How could these variations provide an explanation for the diversity in animal and plant species ?

    2- Darwin asserted that " living beings evolved gradually". In this çase, there
    should have lived millions of " transitional forms". Yet there was no trace of these
    theoretical creatures in fossil record. Darwin gave considerable thought this problem, and eventually arrived at this conclusion that
    " further research would provide these fossils."

    3- How could natural selection explain complex organs, such as eyes , ears or wings?

    How
    can it be advocated that these organs evolved gradually, bearing in mind
    that they would fail to function if they had even a single part missing.

    H.S.Lipson, a British physicist makes the following comments about these
    " difficulties " of Darwin's:

    " On reading ' The Origin of Species ' I
    found that Darwin was much less sure himself than he is often represented to be ; the chapter entitled " Difficulties of the Theory" for example, shows considerable
    self-doubt. As a physicist, I was particularly intrigued by his comments on how the eye would have arisen. (1)

    However, contrary to his expectations, more recent scientific findings have merely increased these difficulties.

    The Problem of Origin of Life :

    The theory that non-living matter could come together to form living organism, had been widely accepted. Even in the period of Darwin's ' Origin of Species ' was written, the belief that bacteria could come into existence from inanimate matter was widespread.

    A corner stone of the Theory of Evolution
    was disapproved by Louis Pasture. In his lecture at the Sorbbone in 1864. He said:

    " Never will be the doctrine of spontaneous
    generation recover from the mortal blow
    srtuck by this simple experiment." (2)

    However, as scientific progress revealed
    the complex structure of the cell, the
    idea that life could come into being
    coincidently faced an even greater
    impasse.

    The problem of Genetic :

    Another subject that posed a quandary
    for Darwin's theory was inheritance.Vague
    beliefs about inheritance led Darwin to
    base his theory on completely false
    ground.Darwin assumed that : Naturaĺ
    selection was the " mechanism of
    Evolution."
    He was unable to explain how would
    " useful traits" be selected and transmitted
    to the next geneation? At this point, he
    embraced the Lamarckan theory, that is
    " the inheritance of acquired traits".

    However, Lamarck's thesis was
    disapproved by the laws of genetic
    inheritance discovered by Gregor
    Mendel. The concept of "useful traits"
    was therefore left unsupported.

    Genetic laws showed that acquired traits
    are not passed on, since no alteration in
    their genetic data takes place, no
    transformation of species occurs. This
    was a serious deadend for Darwin's
    theory, which tried to base the concept
    of " useful traits " on Lamarck.

    Mendel opposed not only Lamarck's
    model of evolution, but also Darwin's.
    Mendel was in favour of the orthodox
    doctrine of special creation.

    (1) H.S. Lipson, " A Physicit's view of
    Darwin's theory", Evolutio Trends in
    Plants, vol.2, No, 1988, p.6

    (2) Sidney Fox, Klause Dose, Molecular
    Evolution and The Origin of Life.
    W.H.Freeman and Company, San
    Francisco, 1972, p.4.

    Continue:–

  4. باقی مذاھب کی کتابوں کو تلفظ سے پڑھتے ہیں اور قرآن غلط پڑھتے ہیں.
    وجہ کیا ہے؟ قرآن کو تجوید کیساتھ پڑھنا بھی سیکھنا چاہیے ان کو.

  5. ISLAM IS FOR ALL HUMANITY

    Almighty Allah says:
    و ما ارسلناک إلا رحمة للعالمين
    We sent thee not,but as a mercy for the all worlds.(for all creatures).

    There is no question now of race or nation of a " chosen people" or the seed of Abraham or the " seed of David"; of Jew or Gentile, Arab or non–Arab, European or African, White or Coloured etc.
    Prophet Muhammad(pbuh) is mercy for all.

    To all men and women on the world without any exception.
    The principles universally apply.

    LO ! RELIGION WITH ALLAH IS ISLAM
    إن الدين عند الله الإسلام و من يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه o
    Islam is دين الله (Way of Life given by Allah). How mankind should live in this world. It is not made by Muslim. It direct or has it's root in Qur'an and authentic حدیث (sayings of Prophet) Therefore Islamic laws are in broader intersts of all being. Islamic laws are better than any other man made laws of any country.

    Problem of Europe is that it does not understand / realise this fact. They think that theirs laws are better than Islamic laws.

    Almighty Allah says :
    The revelation of the Book is from Allah,the Mighty, the Wise.

    Lo! We have revealed the Book unto them (Mohammad) with truth; so worship Allah,making the دين (Deen) pure for Him (only).

    Surely pure Deen is for Allah only
    (Qur'an,39:1-3)
    Kindly make your mind clear that the the mankind is created by Almighty Allah — the Master Creator.
    We have to study and research the Holy Qur'an sincerely. It is in broader interests of mankind.

    Follow Islam to make your life better in this world and in Hereafter.
    O Allah show us the right path of Islam.
    " The path of those whom Thou hast favoured; Not (the path) of those who earn Thine anger nor of those who go stray".
    (Qur'an, 1:7)

    DR.MOHAMMAD LAEEQUE NADVI 
    Ph.D. (Arabic Lit.) M.A. Arabic Lit.+Islamic Studies)
                            Director  
    Amena Institute of Islamic Studies & Analysis
    A Global & Universal Institute,         

    Donate to developee this Institute 
    SBI A/C30029616117
    Kolkata,Park Circus Branch
    nadvilaeeque@gmail.com 

    Thanks

  6. خاتمہ کائنات
    وعدا علينا إنا كنا فاعلين
    یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے ، ہم اسے پورا
    کرکے رہیں گے
    انسانی تاریخ اپنے اختتام کے بالکل
    قریب آگئی ہے

    اقتربت الساعة وانشق القمر o
    قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا

    جس وقت یہ بات کہی گئی تھی اس وقت انسان اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا تھا
    لیکن آج انسان فلکیاتی تحقیقات( Space Researches) میں اتنی ترقی کرچکا ہے کہ
    قرب قیامت ایک حقیقت بن کر سامنے آگئی ہے !
    " چاند پھٹ گیا " یعنی شق ہوکر دو ٹکڑے ہوگیا ۔ اس کا مطلب یہ کہ اجرام سماوی
    ستارے اور کہکشائیں بھی ٹوٹ پھوٹ کر بکھر سکتی ہیں ۔ اس کائنات میں کسی جرم کے دائمی ہونے کا کوئی پتہ نہیں چلتا ۔ شق قمر صحیح سند سے ثابت ہے اور احادیث متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں ۔

    اللہ تعالی جو اس کائنات کا مبدع اور موجد ہے اس نے صاف صاف قرآن میں تاکید کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ وہ اس کائنات کو ختم کردے گا ۔ قرآنی بیانات کے مطابق اس کائنات اور زمین پر انسانی زندگی کا خاتمہ یقینی ہے
    اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے :
    یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب ، كما بدأنا اول خلق نعيده ، وعدا علينا إنا كنا فاعلين

    " The day We shall roll up the heaven as a recorder rolleth up for books.As We began the first creation, We shall repeat It.It is a promise binding upon Us. Lo! truly We shall do it.
    (Qur'an,21:104)

    The heaven will be folded up like a scroll of parchment, for it will have done its work.If Allah created all this world out of nothing.
    He can create an entirely new heaven and a new earth, on a plane of which we can form no conception in our present life.
    And He will do so, for that is His promise.

    Many theories are presented by the Astro-Physits to end the universe. The ultimate fate of the universe, in which the expansion of the universe eventually reverses and the universe recollapses, causing the cosmic destruction.

    There are two more theories Big Frees and Big Rip which may cause end of the universe.

    Almighty Allah says:
    يسئلونك عن الساعة أيان مرسها ، قل إنما علمها عند ربى لا يجليها لوقتها إلا هو ، ثقلت فى االسموات والأرض ؛ لا تأتيكم إلا بغتة o

    They ask thee of the الساعة (destined Hour) when will be its appointed time.
    Say: the knowledge thereof is with my Lord only.He alone will manifest it at its proper time. It is heavy .Now its burden is heavy in the heavens and the earth.Only all of a sudden will it come to you.They question thee as if thou couldst be well informed thereof.
    Say: the knowledge thereof is with Allah only,but most of men know not. (Qur'an,7:187)

    اگر آپ حالیہ فلکیاتی تحقیقات کا مطالعہ کریں تو آپ کو ایک ایس حقیقت کا علم ہوگا جسے سائنسدانوں نے Great Attractor کا نام دیا ہے ۔ یہ عظیم اپنی طرف کھینچنے والی چیز کیا ہے ؟ سائنسداں اب تک اسے نہیں معلوم کرسکیں ہیں ۔ جتنی کہکشائیں ہین سب
    ایک نکتہ کی طرف کھنچی چلی جارہی ہیں بلکہ ایسا معلوم دیتا ہے کہ ان سارے کہکشاؤں کو دھکا دے کر اس سمت لے جایا جارہا ہے ۔
    کیا یہ بظاہر " يوم نطوى السماء " جس دن ہم آسمان ( کائنات)کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں "
    کی طرف اشارہ نہیں ہے کائنات کی بساط لپیٹی جارہی ہے !

    اس خلائی تحقیق میں یہ اشارہ ہے کہ کائنات کو لپیٹنے( ختم کرنے) کا عمل جاری ہے ۔ اس لیے قرب قیامت کی وہ بڑی پیشینگوئیاں جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں ان کے ظاہر ہونے کا وقت بالکل نزدیک آگیا ہے ۔

    سارے آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ تاریخ انسانی اپنے آخری مرحلہ میں پوری طرح داخل ہوچکی ہے ۔ اس صدی کے آخر تک کیا ہونے جارہا ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے !!

    میرے آقا وہ جہاں زیر و زبر ہو نے کو ہے
    جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

    فتنہ فردا کا یہ عالم ہے کہ آج
    کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار

    علامہ اقبال رحمہ

    ڈاکٹر محمد لئیق ندوی
    Post– Doctoral Researcher

    ڈائرکٹر
    آمنہ ا انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ انالائسس
    A Global and Universal Research Institute
    nadvilaeeque@gmail.com

  7. Please change the title..The person who got some confusion not much and he did not confuse Dr.Naik Sir..please change the title now Sir..Masha Allah very good question and Excellent answer by Dr.Zakir naik..Alhamdulillah Allah blessed him with proficient knowledge..Masha Allah., Tabarakallah..

  8. Allah ताला आपको हमेसा सलामत rkhkhe और aapki उम्र मे भी jada इजाफा दे मेरा अल्लाह ताला से duwa है

Choose A Format
Personality quiz
Series of questions that intends to reveal something about the personality
Trivia quiz
Series of questions with right and wrong answers that intends to check knowledge
Poll
Voting to make decisions or determine opinions
Story
Formatted Text with Embeds and Visuals
List
The Classic Internet Listicles
Countdown
The Classic Internet Countdowns
Open List
Submit your own item and vote up for the best submission
Ranked List
Upvote or downvote to decide the best list item
Meme
Upload your own images to make custom memes
Video
Youtube, Vimeo or Vine Embeds
Audio
Soundcloud or Mixcloud Embeds
Image
Photo or GIF
Gif
GIF format