The martyrdom of Hazrat Ammar R A by army of Hazrat Mauwiya R A & Aqeedah of Ahle Sunnah


0
The martyrdom of Hazrat Ammar R A by army of Hazrat Mauwiya R A & Aqeedah of Ahle Sunnah



مکمل بیان سننے کیلئے یہاں کلک کریں
https://m.youtube.com/watch?v=1Er3AlPi73s

For more lectures by Hazrat Mufti Muhammad Saeed Khan sahib (حفظہ اللہ)
ندوہ چینل پر مفتی محمد سعید خان صاحب کے ساتھ درسِ قرآن، حدیث، سیرت اور بہت
سے بیانات کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://www.seerat.net

Like our facebook page:
لائک کریں
Al-Nadwa Educational Trust
https://www.facebook.com/Alnadwa.Official

Subscribe to our YouTube Channel
یو ٹیوب چینل
https://www.youtube.com/SeeratVideo

Join our WhatsApp group
ہمارا وٹس ایپ گروپ
https://chat.whatsapp.com/Don49zxutQmGvm2Op9SO5E
~
DISCLAIMER: The material, Video, Audio, Written, published on this Site, may not be reproduced anywhere else, in parts or in such a form, which distorts or changes the essence or intention of the producers of this material originally displayed in this website.

source


Like it? Share with your friends!

0

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
0
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win

22 Comments

Your email address will not be published.

  1. Narrated `Ikrima:

    that Ibn `Abbas told him and `Ali bin `Abdullah to go to Abu Sa`id and listen to some of his narrations; So they both went (and saw) Abu Sa`id and his brother irrigating a garden belonging to them. When he saw them, he came up to them and sat down with his legs drawn up and wrapped in his garment and said, "(During the construction of the mosque of the Prophet) we carried the adobe of the mosque, one brick at a time while `Ammar used to carry two at a time. The Prophet (ﷺ) passed by `Ammar and removed the dust off his head and said, "May Allah be merciful to `Ammar. He will be killed by a rebellious aggressive group. `Ammar will invite them to (obey) Allah and they will invite him to the (Hell) fire."

  2. ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی ‘ کہا ہم سے خالد نے بیان کیا عکرمہ سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور ( اپنے صاحبزادے ) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو ۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے ( رضاعی ) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو ( ہمارے پاس ) تشریف لائے اور ( چادر اوڑھ کر ) گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجدنبوی کی اینٹیں ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے ) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس ! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی ( اطاعت کی ) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے ۔

    حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لَهُ وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ‏.‏ فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ، فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ فَقَالَ كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الْغُبَارَ وَقَالَ ‏ "‏ وَيْحَ عَمَّارٍ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ ‏"‏‏.‏

    Reference : Sahih al-Bukhari 2812

    In-book reference : Book 56, Hadith 28

    USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 52, Hadith 67

    (deprecated numbering scheme)

  3. عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، رضی اللہ عنہ، کیا یہ الفاظ صحیح بخاری میں ہیں ؟ [EP-16/72]
    —————————————————
    عام طور اہل سنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ حضرت علی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی جنگ حق اور باطل کی جنگ نہ تھی بلکہ یہ احق یعنی زیادہ حق اور حق کی جنگ تھی، یا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اجتہادی خطا پر تھے لیکن انجینئر محمد علی مرزا نے اسے حق اور باطل کی جنگ بنایا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے انجینئر محمد علی مرزا نے صحیح بخاری کی روایت نقل کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کہا تھا کہ آپ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، عمار انہیں جنت کی طرف جبکہ وہ انہیں جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔

    اب یہ الفاظ کہ "عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا" تو یہ صحیح بخاری کے مروجہ نسخوں میں موجود ہیں لیکن اگر آپ صحیح بخاری کے قلمی نسخوں اور ان پر محدثین کی تنقیح وتحقیق کو دیکھیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری نے یہ الفاظ یا تو اپنی صحیح میں نقل نہ کیے تھے یا نقل کر کے نکال دیے تھے کیونکہ یہ ان کے صحت کے معیار پر پورے نہیں اتر رہے تھے۔ امام ابو مسعود الدمشقی متوفی 401ھ نے اپنی کتاب "اطراف الصحیحین" میں، امام بیہقی متوفی 458ھ نے اپنی کتاب "دلائل النبوۃ" میں اور ابو عبد اللہ الحمیدی متوفی 488ھ نے اپنی کتاب "الجمع بین الصحیحین" میں لکھا ہے کہ امام بخاری رحمہم اللہ نے ان الفاظ کو اپنی صحیح بخاری میں نہیں لکھا تھا۔

    ابن الاثیر الجزری متوفی 606ھ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "جامع الاصول" میں لکھا ہے کہ میں نے صحیح بخاری کا جو نسخہ ابو الوقت السجزی متوفی 553ھ رحمہ اللہ کی روایت سے پڑھا ہے، اس میں یہ الفاظ کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، متن میں موجود نہیں ہیں البتہ نسخے کے حواشی میں موجود ہیں۔ اور اس نسخے کے علاوہ صحیح بخاری کے کسی نسخے میں میں نے یہ الفاظ نہیں دیکھے ہیں، نہ متن میں اور نہ حواشی میں۔ امام مزی متوفی 742ھ رحمہ اللہ اپنی کتاب "تحفۃ الاشراف" میں اور امام ذہبی متوفی 748ھ رحمہ اللہ اپنی کتاب "تاریخ الاسلام" میں کہتے ہیں کہ یہ الفاظ صحیح بخاری میں نہیں ہیں۔

    علامہ ابن حجر متوفی 773ھ اپنی کتاب "فتح الباری" میں لکھتے ہیں کہ میری رائے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ الفاظ لکھ کر انہیں مٹا دیا تھا کیونکہ اس حدیث کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست نہیں سنے ہیں۔ البتہ بقیہ روایت سنی ہے لیکن یہ الفاظ نہیں سنے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔ تو کچھ عرصے بعد صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں وہ الفاظ حواشی میں نقل ہونا شروع ہو گئے اور بہت عرصہ بعد وہ متن کا حصہ بن گئے۔

    امام بخاری رحمہ اللہ کا اپنا صحیح بخاری کا نسخہ اس وقت دنیا میں نہیں ہے۔ بخاری سے جنہوں نے صحیح بخاری لکھی ہے، ان میں معروف ترین فربری ہیں۔ فربری سے جنہوں نے بخاری لکھی ہے، ان میں معروف ترین الحمویی، المستملی اور الکشمیھنی ہیں۔ ان تینوں سے ابو ذر الہروی نے لکھی ہے۔ ابو ذر الہروی سے ابو الولید الباجی نے بخاری لکھی ہے۔ اور ابو الولید الباجی سے الصدفی نے بخاری لکھی ہے۔ اور الصدفی سے ابن سعادۃ نے بخاری لکھی ہے۔

    صحیح بخاری کا یہ قدیم ترین قلمی نسخہ ہے جو اس وقت ہمارے پاس مکمل موجود ہے۔ اس کے علاوہ صحیح بخاری کے قدیم نسخے ہیں لیکن اس کے بعد کے ہیں۔ صحیح بخاری کے اس قدیم ترین قلمی نسخے (manuscript) میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا جبکہ بقیہ مکمل روایت موجود ہے۔ اس کے اسکرین شاٹس ویڈیو میں موجود ہیں۔

    اس وقت پوری دنیا میں جتنی بھی صحیح بخاری پبلش ہو رہی ہے، اس کے پیچھے دو نسخے ہیں؛ یونینیہ اور ابن سعادۃ۔ یونینیہ کا نسخہ مشرق میں چلتا ہے جبکہ مغرب میں یعنی بلاد اسلامیہ کے مغرب میں ابن سعادہ کا نسخہ چلتا ہے۔ نسخہ یونینیہ سے ایک اور نسخہ تیار ہوا تھا جسے نسخہ سلطانیہ کہتے ہیں کہ جسے سلطان عبد الحمید نے تیار کروایا تھا۔ اس نسخہ سلطانیہ سے ایک اور مستند نسخہ تیار ہوا ہے۔ اس نسخے میں ہے کہ یونینیہ کے نسخے میں یہ الفاظ ہیں کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا لیکن صحیح بخاری کے ابو ذر الہروی اور اصیلی کے نسخوں میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ تو ابو ذر الہروی کا نسخہ، نسخہ یونینیہ کے مصادر میں سے ہے کیونکہ وہ اس سے پہلے ہے۔

    اب صحیح بخاری جب عوامی سطح پر پبلش ہوتی ہے تو صحیح بخاری کے قلمی نسخوں کے اختلافات ذکر نہیں کیے جاتے کہ عوام شک میں پڑ جائیں گے جیسا کہ جب قرآن مجید پبلش کیا جاتا ہے تو قراءات کے اختلافات حواشی میں بیان نہیں کیے جاتے کہ وہ عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ "مالک" کو "ملک" بھی پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن جب علمی سطح پر بخاری پبلش ہوتی ہے تو اس میں حواشی میں صحیح بخاری کے نسخوں کے اختلاف کو تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے۔

    صحیح بخاری کی یہ روایت ثابت ہے لیکن اس روایت میں یہ جملہ کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا تو یہ ادراج ہے یعنی اضافہ ہے، یہ ثابت نہیں ہے۔ تو صحیح بخاری میں کوئی روایت ضعیف نہیں ہے لیکن چند الفاظ ایسے ہیں کہ جس میں راوی کو وہم ہو جاتا ہے یا وہ ادراج ہو سکتے ہیں یا شاذ ہو سکتے ہیں یا ان میں کوئی خفیہ علت ہو سکتی ہ

  4. حدیث عمار رضی اللہ عنہ کے متنوع طرق پر بحث [EP-17/72]
    —————————————
    پچھلے ایپی سوڈ میں ہم نے صحیح بخاری میں حدیث عمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بحث کی تھی کہ صحیح بخاری کی روایت میں یہ الفاظ کہ "عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا" ثابت نہیں ہیں بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ان الفاظ کو لکھا ہی نہ تھا یا لکھ کر مٹا دیا تھا جیسا کہ ائمہ محدثین نے اس کی تصریح کی ہے۔

    روایت کے یہ الفاظ کہ "عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا"، صحیح مسلم میں بھی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ لیکن صحیح مسلم ہی کے ایک دوسرے طریق میں یہ وضاحت موجود ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ دیا کہ انہوں نے یہ الفاظ براہ راست اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنے ہیں بلکہ ایک اور صحابی سے سنے ہیں۔

    صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ الفاظ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر کہے تھے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ الفاظ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو خندق کی کھدائی کے موقع پر کہے تھے۔

    تو یہاں سے بھی دونوں روایات میں اضطراب یعنی اختلاف آ گیا جبکہ راوی ایک ہی ہے۔ مسجد نبوی کی تعمیر 1 ہجری میں ہوئی جبکہ غزوہ خندق 5 ہجری میں ہوا۔ اس تعارض یعنی اختلاف کو حل کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ صحیح بخاری کی روایت کو ترجیح دے دیں تو اس صورت میں "عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا" یہ الفاظ ثابت نہ ہوں گے جبکہ بقیہ روایت ثابت رہے گی اور یہ مسجد نبوی کی تعمیر کا واقعہ شمار ہو گا۔

    صحیح مسلم میں ایک اور جگہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ بعض طرق میں "سمعت" یعنی میں نے سنا ہے، کے الفاظ ہیں لیکن زیادہ محفوظ الفاظ "قال" کے ہیں کیونکہ ان کے لیے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات براہ راست سننے کا امکان نہیں ہے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد ہجرت کی ہے لہذا مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر یہ مکہ میں تھیں۔

  5. حدیث عمار رضی اللہ عنہ کا صحیح مفھوم اور معنی کیا ہے؟ [EP-18/72]
    ——————————————-
    اگر حدیث عمار کے ان الفاظ کو کہ "عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا"، ثابت مان لیا جائے جیسا کہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت کا موقف ہے تو اس کا معنی عام طور ان اہل علم نے جو بیان کیا ہے، وہ انجینئر محمد علی مرزا کے بیان کردہ مفہوم سے مختلف ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ "باغی" کا معنی "چاہنے والا" ہے۔

    قرآن مجید میں "بغی" کا لفظ اسی بنیادی معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ قرآن مجید کی آیات "فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ"، "وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ"، "لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ"، "وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّـهِ"، "وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا"، "تَبْغُونَهَا عِوَجًا" اور " أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ" میں اس مادے سے چاہت کا مفہوم ہی مراد ہے۔

    اور قرآن مجید میں جہاں یہ لفظ ظلم کے معنی میں استعمال ہوا ہے، وہاں بھی سیاق وسباق کی وجہ سے ظلم مراد ہوتا ہے جیسا کہ آیت مبارکہ "قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ" میں یہ چاہنے کے بنیادی معنی میں استعمال ہوا ہے لیکن "بغیر الحق" کے سیاق کے ذریعے اس کو "ناحق چاہنے" کا مفہوم دیا گیا ہے۔ اور "ناحق چاہنے" کو ظلم کہا جا سکتا ہے۔ تو اس معنی میں اس کا ترجمہ ظلم کر دیا جاتا ہے۔

    احادیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں یعنی چاہنے کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے جیسا کہ ایک روایت میں "یا باغی الخیر" یعنی اے خیر کے چاہنے والے کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ سنن ابی داود کی روایت میں ہے کہ اگر کسی کو گری پڑی چیز مل جائے اور اس کے پاس اس شیء کا "باغی" یعنی چاہنے والا یا متلاشی آ جائے تو اس کو وہ شیء واپس کر دے۔

    پس اس باغی گروہ سے مراد چاہنے والا گروہ ہے۔ اب وہ کیا چاہتا تھا تو وہ حق یا اپنے حق سے زیادہ چاہنے والا گروہ تھا۔ ایک مطالبہ ان کا حق تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لیا جائے۔ ان کی یہ طلب یا چاہت حق تھی۔ اور ان کی ایک طلب یا چاہت حق سے زائد تھی جیسا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلافت سے معزول ہو جائیں کیونکہ ان کو خلیفہ منتخب کرنے والوں میں آگے آگے وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا۔

    صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ قیامت سے پہلے دو گروہ آپس میں لڑیں گے اور دونوں میں سے ہر ایک کا دعوی یہ ہو گا کہ وہ حق پر ہے اور ایسا ہی ہوا۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ مسلمانوں میں تین گروہ بن جائیں گے اور ان تین میں ایک خوارج کا گروہ ہو گا۔ اور بقیہ دو میں جو حق سے زیادہ قریب ہو گا، وہ خوارج سے قتال کرے گا۔ تو یہ گروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تھا۔

    پس یہ احق یعنی زیادہ حق اور حق کی جنگ تھی یا اختلاف تھا کہ جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گروہ احق یعنی زیادہ حق پر تھا جبکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ حق پر تھا۔ اور اس دوسرے گروہ کو باغی اس معنی میں کہا گیا ہے کہ یہ گروہ اپنے حق سے زیادہ کا مطالبہ کرے گا۔ اور اس گروہ کا اپنے حق سے زیادہ کا مطالبہ یہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ معزول ہو جائیں اور دوبارہ خلیفہ کا انتخاب ہو۔

    اس میں شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کرنے میں مالک بن اشتر النخعی جیسے لوگ بھی آگے آگے تھے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں براہ راست ملوث تھے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی کی مشاورت کے وقت سے ہی ثابت ہو گئی تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد ان کا نمبر ہی آتا ہے کیونکہ بقیہ چار افراد تو سائیڈ پر ہو گئے تھے۔ مزید تفصیل کے لیے ویڈیو دیکھیں۔

    https://youtu.be/J0aQ7dEXYnw?list=PLN76dtMDwzxua_ceidS-yWYxeEXxfafY8

  6. سوال انجینئر سمیت شیعہ مذہب کے حضرت عمار یاسر سے منسوب حدیث سناتے ہیں کہ ایک جماعت آگ کی طرف بلائے گی عمار یاسر اس جماعت کے مخالف ہوں گے اس پر تفصیل بیان درکار ہے

  7. ابوبکر کی صداقت ذندہ باد
    عمر کی عدالت ذندہ باد
    عثمان کی سخاوت ذندہ باد
    حیدر کی شجاعت ذندہ باد
    معاویہ کی سیاست ذندہ باد

    ھر صحابی نبی جنتی جنتی

  8. حضرت اگر مسئلہ واقعی قصاص قاتلین حضرت عثمان غنی (رض) کا تھا تو امیر معاویہ نے اپنے خلافت میں قصاص کیوں نہیں لیا ؟
    یا وہ صرف اقتدار کی جنگ لڑرہے تھے۔

  9. Mufti shb sahih bukhari 2812 ka tarjama ya hai zada haq aur kam haq wali baat hi nahi
    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور ( اپنے صاحبزادے ) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے ( رضاعی ) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو ( ہمارے پاس ) تشریف لائے اور ( چادر اوڑھ کر ) گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے ) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی ( اطاعت کی ) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔