Bahaduri Musalman Ki Pehchan Hain Beta | Sheikh Atif Ahmed | Motivational session by ShaykhAtifAhmed


0
Bahaduri Musalman Ki Pehchan Hain Beta | Sheikh Atif Ahmed | Motivational session by ShaykhAtifAhmed



Bismillahir Rahmanir Rahim
◾ Topic: Bahaduri Musalman Ki Pehchan Hain Beta
◾ Speaker: Shaykh Atif Ahmed
——————–
Find Our Exclusive Bayans Using the Tages
#SheikhAtifAhmed​ #ShaykhAtif and #AlMomin
——————–

source


Like it? Share with your friends!

0

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
0
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win
Al Momin

Al Momin

12 Comments

Your email address will not be published.

  1. گزر جا عقل سے آگے کے یہ نور چراغٍ راہ ھے منزل نہیں ھے=سر علم اک نقطہ ھے جیسے ہمارے استاد نے ہمیں سمجھایا شاٸد بیاں نہ کر پاٸیں مگر کوشش کرنے والوں کی ھار نہیں ھوتی۔=انسان۔ کا اللہ سے رشتہ ود طرح سے ھے۔اک۔علم سے پہچان کا ھے اک کردار سے کلمہ ان دو جہتوں کی عکاسی ھے۔خدا والے وہ ہیں جو مانگتے ھیں اللہ سے ھر ضرورت کی چیز اللہ عطا کرتا ھے وہ شکر ادا کرتے ھیں فرشتہ صفت انسان ھوتے ھیں روح سے شناساٸی ملتی ھے۔دوسرا وہ لوگ جو اتباعٍ حسین کرتے ھیں اسوء رسول کے مطابق۔یہ مانگتے نہیں ھیں کیونکہ دینے والا ھاتھ مانگنے والے ھاتھ سے بہتر ھوتا ھے۔داٸیں اور باٸیں ھاتھ کی طرح۔جیسے داٸیاں ھاتھ۔وجود کو کھلاتا ھے باٸیاں دھوتا ھے =اسی طرح انکو حکم ھوتا ھے بندگی کے باب میں کہ جو ھے سارے کا سارا صدیق کی طرح پیش کر دیں۔وجود کی صورت۔سوال نہ کریں بلکہ اعتراف کریں خلق لانسان من علق کے تحت کہ مولا میں تو نطفہء پلید تھا۔آپ سے سماعت دی بصارت دی ناک کان دل دیا اور حواس کے ساتھ وجود بخشا سب تیرا ھے اسے قبول کر۔میں دمٍ آخر بھی تو خود کو تیرے سپرد ھی کروں گا تو دمٍ اول سے آغاز کیوں نہ کروں=بس یہ عشق میں جواء ھے=اور حسین۔ایسا جواری ھے اس باب میں کہ نبی بھی وانا من لحسین کہتے ھیں=اللہ والے عطا کی وجہ سے شکر ادا کرتے ھیں۔محمد والے اس سخا پہ شکر ادا کرتے ھیں =موسی کو اللہ نے جب انسانی گوشت کی فرماٸش کی تھی تو اک بات سمجھاٸی تھی کہ دمڑی دینا والا کلیم ھوتا ھے۔چمڑی دینے والا محبوب ھوتا ھے اسی لیٸے شاٸد وہ دنیا دشمن بنا دیتا ھے کہ یہ میرے سواء کسی کی طلب نہیں کرتا اسلیٸے کوٸی میرے سوا اسکی چاھت نہ کرے۔اور پھر۔ولنبلونکم بشیٸ من لخوف والجوع ونقص من لاموال والانفس۔نفس کو حلا ل کرتا ھے دوست ھو تو اسماعیل کے گلے پہ چھری رکھوا کر۔محبوب ھو تو سر کٹوا کر حسین کا قرآن کو گواہ پیش کرتا ھے بعد میں نوکٍ نیزہ پر تلاوت کی صورت۔مالاں والے سخی نہیں ھوندے تے سخیاں مال نیٸں ھوندا=ایتھے اوتھے دو جہانی سخی کنگال نہیں ھوندا=یہ وہ بات تھے جو نظر مصطفی نے بلال کے دل میں ڈالی تھی۔=یہ وہ سبب تھا کہ جو خدا آج تک کسی کی ظاھری آنکھ کی شھادت کی زد میں نہ آیا تھا۔مصطفی نے کہا بلال کعبہ کی چھت پہ چڑھ۔منہ میری طرف کر کے گواہی دے کہ تو نے شھادت دیکھ کے دی ھے قول۔من رانی فقد رالی لحق۔جو دیکھ کے گواہی دیتے ھیں انکی آذان کے لیٸے اللہ صبح بھی روکے رکھتا ھے وہ نظامٍ دنیا کی ھو یا نظامٍ شعور کی۔اور کربلا کا مٶذن۔اٹھارہ سالہ علی اکبر ھے جو سر تا پاءتصویر مصطفی ھے۔اسے تو سامنے دیکھنے کی ضرورت نہ تھی دل کے اندر دیکھ کے گواہی دی تھی سو برچھی نے چیرا بھی سینہ ھی۔=مگر امت محمد کے لیٸے راستہ ہموار کر دیا۔اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغٍ زندگی=در جوانی توبہ کردن شیواٸے پیغمبری