War Crisis – What is the Solution? | Molana Tariq Jamil 27 Feb 2022


0
War Crisis - What is the Solution? | Molana Tariq Jamil 27 Feb 2022



#TariqJamilOfficial #MolanaTariqJameel

War Crisis – What is the Solution? | Molana Tariq Jamil 27 Feb 2022
This is The Official YouTube Channel of Tariq Jamil, commonly referred to as Molana Tariq Jameel, is a Pakistani religious and Islamic scholar, preacher, and public speaker.

OFFICIAL LINKS:
http://Facebook.com/TariqJamilOfficial
http://Facebook.com/AlHasanainOfficial
http://YouTube.com/TariqJamilOfficial
http://Instagram.com/TariqJamilOfficial
http://Twitter.com/TariqJamilOFCL
http://www.TariqJamilOfficial.com
http://www.alhasanainofficial.com

source


Like it? Share with your friends!

0

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
0
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win
Tariq Jamil

33 Comments

Your email address will not be published.

  1. فیصل بات یہ ہے کہ ہم دنیا میں مسلمان دو طرح کے ہیں ایک عزیمت پر چلتے ہیں اور ایک رخصت پر جو رخصت پر چلتے ہیں ان کی أو بھگت ہوتی ہے مختلف کانونشن میں بلایا جاتا ہے "مولانا "جیسے عزت افروز القابات سے نوازا جاتا ہے اور جو بیچارے عزیمت پر عمل کرتے ہیں انہیں ٹارگٹ کیلنگ میں مار دیا جاتا ہے اور" ملا" جیسے تضحیک آمیز القابات سے نوازا جاتا ہے کسی کنونشن میں بلانا تو دور کی بات ہے خود بلا کر بھی ان کی فوٹو جاری نہیں کی جاتی۔۔۔ شاطر انگریزوں نے 1857سے پہلے ٹیکنالوجی والے مضمون اپنے پاس رکھ لیے اور مسلمانوں کو " ایسا غوجی" جیسی بے معنی کتابوں کے پیچھے لگا دیا

  2. مولانا طارق جمیل صاحب کے بقول" القتال" کے الف لام کی شرائط پوری نہیں ہیں تو کیا تبلیغ پوری شرائط سے ہو رہی ہیں ؟ہر آدمی تبلیغ میں لگنے سے مفتی بن جاتا ہے تو کیا یہ تبلیغ عوام کے ہاتھوں میں نہیں جا چکی ہے ؟مانا کے جہاد کے نام پر بہت سی تحریکوں نے اودھم مچایا ہوا تھا لیکن جس تحریک نے شرائط کے ساتھ جہاد کیا اور اللہ نے اس کی مدد بھی کی اب دوسری تحریکوں کا وعدہ کرکے اس صحیح تحریک کو ایپریشیٹ کرنے کی بجائے مدھم تو نہ کرو یہ موصوف عمران خان کو سلوٹ مارتے ہیں اور مولانا سمیع الحق صاحب اسی آدمی کو برا بھلا کہتے ہیں تو اگلے دن ہی ان کی لاش برآمد ہو جاتی ہے آج کے علماء کی نئی جنریشن پرانے دور کے اکابر علمائے دیوبند کے مشن سے ہٹ چکی ہے یہ تو افغانستان کا پاکستان والوں پر احسان ہے کہ انہوں نے پہلے روس کے تسلط سے پاکستان کو بچایا اب امریکہ اور مغرب کے تسلط سے ورنہ پاکستان کی کیا حیثیت سن 71ء کی جنگ میں 90 ہزار قیدیوں کے ساتھ ساتھ آدھا ملک بھی گنوا دیا تھا۔

  3. عجیب و غریب بیان اگر اس بیان کو دیکھا جائے تو انگریزوں کی برصغیر میں شاہ ولی اللہ سے پہلے چار سو سال قبل آچکے تھے شاہ ولی اللہ کی کوششیں اس کے بعد 1832 میں بالا کوٹ کے شہداء پھر 1857ءمیں بانیان دیوبند کی انگریزوں سے جنگ اور ہزاروں علماء کا سولی پر چڑھ جانا پھر شیخ الہند محمود الحسن اور ان کے ساتھیوں کا انگریز کے خلاف جہاد اور کوشش اور جزیرہ مالٹامیں قید و بند کی صعوبتیں پھر افغانستان میں روس کے بعد امریکہ کے ساتھ طویل جنگ یہ ساری چیزیں مولانا طارق جمیل صاحب کی نظر میں نام نہاد اصلاح سے کم حیثیت رکھتی ہیں اس بیان کی روشنی میں مولانا طارق جمیل دراصل انگریزوں کی غلامی میں رہ کر لوگوں کی اور نظام کی اصلاح چاہتے ہیں انگریزوں کے پٹھوں سرسید احمد خان نے بھی انگریزوں کی حکومت کو جائز اور مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو بغاوت سے تعبیر کر کے اپنی کتاب"اسباب بغاوت ہند " لکھی تھی تو اس منہوس کے اثرات ہمارے علماء پر پڑ چکے ہیں پہاڑوں میں رہ کر کافروں سے لڑنا شاہانہ طرز"ذاتی برانڈ فاؤنڈیشن اور بڑے بڑے لوگوں سے میل ملاپ ا " زندگی کے مقابلے زیادہ اچھا لگتا ہے اصلاح کی آڑ میں باقی ضروریات دین کو کم حیثیت دینا اس کی قرآن میں جگہ جگہ نفی ہے جب مروان اور اس کا باپ حکم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے مصلح کی اصلاح سے محروم رہے تو اس دور کے مبلغین کی کیا حیثیت ہے انگریزوں نے اپنا انگریزی نظام بنایا ہی اتنا خوبصورت ہے کہ اس میں دنیا داروں کے ساتھ ساتھ دین دار بھی پھنسے ہوئے ہیں اور اس سے باہر نہیں نکلنا چاہتے اور جو بیچارے اس نظام کو توڑنا چاہتے ہیں تو یہ واعظین اور مبلغین اپنی اصلاح کو ان کی کوشش اور جہاد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں

  4. طالبان سے پہلے افغانستان میں ایک لبرل اور انگریزوں کا پٹھو "نجیب اللہ "حکمرانی کرتا تھا اگر طالبان اس کے اشارے کا انتظار کرتے تو شاید قیامت تک جہاد نہ ہوتا اللہ تعالی طالبانوں کی حمایت کرے غیر تو غیر اپنوں نے بھی ان کی کوششوں کو معمولی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے

  5. امداد اللہ مہاجر مکی کی قیادت میں 1857 کی جنگ آزادی میں جو دس مسلمان جمع ہوئے تھے انگریز کے خلاف قاسم نانوتوی رشید احمد گنگوہی صاحب وغیرہ مولانا طارق جمیل صاحب جیسے لاکھوں لوگ ان کا مقام نہیں پا سکتے اگر وہ جنگ ہار گئے تھے تو پھر 1920 میں برطانیہ نے اور 2020 میں برطانیہ کی نئی جنریشن "امریکا "نے انہی لوگوں کی چلائی ہوئی تحریک کے جانشینوں سے شکست کھائی کیوں کہ موجودہ دور کے طالبان سات آٹھ واسطوں سے مولانا قاسم نانوتوی کے شاگرد ہیں اور یہ کہنا کہ دو سو سال پہلے انگریز کی آمد سے قبل صرف اصلاح نفس کی تحریکیں چلتی تھی تو پھر اتنی اصلاح کے باوجود ان پر انگریز کیسے قابض ہوگیا ؟جب کہ آج کا دور تو اس دور کا عشر عشیر بھی نہیں قرآن ہر طرح کے غلو کی سختی سے ممانعت کرتا ہے واعظ کو اصلاح کا غلو ہوتا ہے جسے قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے لعللک باخع الخ "کہ اے نبی اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو کیا تم اپنے آپ کو ہلاک کر دو گے ۔"

  6. سن 1600ء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد پڑی ڈیڑھ سو سال تک وہ فرانسیسی ولندیزی اور پرتگالی تاجروں کے ساتھ برصغیر اور مشرق بعید کے ساتھ تجارت کرتے رہے پھر 1757ء میں پلاسی کی جنگ میں انہوں نے نواب سراج الدولہ کو میر جعفر کی مدد سے جو( فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی کا طرفدار تھا )عبرتناک شکست دی اور پورے بنگال پر قبضہ کرلیا اس وقت برصغیر میں بنگال کی حیثیت ایسی ہی تھی جیسی آج کراچی کی پاکستان میں ہے گویا بنگال پر قبضہ برصغیر پر قبضہ ہی تھا اور حیدر آباد دکن میں میر صادق کے ذریعے مسلمانوں کا تختہ الٹ دیا اور اسی دکن میں ٹیپو سلطان انگریزوں سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا شمالی بھارت میں مرہٹوں کو قوت دینے کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے پنجاب اور صوبہ سرحد کے علاقوں میں سکھوں کو اقتدار دے دیا اور کشمیر کا سردار راجہ رنجیت سنگھ اس نے مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا تو شمالی بھارت میں مرہٹوں کی قوت کو توڑنے کے لئے شاہ ولی اللہ نے کوشش کی اور پنجاب وغیرہ میں سکھوں سے نبردآزما ہونے کے لئے سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید نے 1832ء میں اپنی جانیں نچھاور کر دیں ڈیڑھ سو سالہ تجارت کی آڑ میں لوٹ مار اور سو سال بنگال پر حکمرانی کے بعد پھر ان کی لالچ بھڑکی 1857ء کی جنگ آزادی میں انہوں نے پورے برصغیر پر باقاعدہ طور پر قبضہ کرلیا اور 1947 تک 90 سال برصغیر کو خوب نچوڑا جب برصغیر کا خام مال اور بیش بہا معدنیات سے اپنی دیوہیکل انڈسٹری کھڑی کرلی تو پھر اسی پیسے سے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ جیسے منہوس ادارے قائم کیے تو اب انہیں باقاعدہ طور پر پیسا خرچ کرکے قبضہ رکھنے کی ضرورت نہیں تھی تو انہوں نے ورلڈ بینک کی صورت میں سودی نظام پورے مسلمان نوآبادیاتی ملکوں میں رائج کردیا اور آج 2022 70 سال ہو چکے ہیں تمام مسلمان ممالک ان سامراجی عفریتوں(مغرب امریکہ )کے باقاعدہ غلام ہیں کون کہتا ہے کہ آج ہم آزاد ہیں یا یہ کہ 75 سال پہلے وہ خود کمزور ہو کر اپنے نوآبادیاتی ملکوں کو چھوڑ گئے تھے بلکہ اپنے خلاف اٹھنے والی مزاحمتی تحریکوں کو روکنے کے لیے انہوں نے جہاد کو بد نام کیا کہ یہ تحریکیں بے معنی تھی بلکہ اپنے منہوس آدمی" مرزا غلام احمد قادیانی "کے ذریعے جہاد کے رد میں تقریبا 50 الماریوں کے برابر کتابیں لکھوائیں بعد میں اپنا قبضہ مزید پختہ کرنے کے لئے فرانس برطانیہ ہالینڈ اور جرمنی نے اس بات پر اتحاد کر لیا تھا کہ ہم آپس میں لڑنے کی بجائے ہم تمام مل کر مسلمان ممالک کی معدنیات اور ان کی معیشتوں کو نچوڑیں گے( کیونکہ جنگ عظیم اول اور دوم کی باہمی تجارتی رقابت نے انکو بہت سبق سکھا دیا تھا )تو انہوں نے مسلمانوں کے تعلیمی نظام کو لارڈ میکالے کے ذریعہ برباد کیا سیاسی اور شاہی نظام کو جمہوریت کے ذریعے اور معاشی اور سماجی نظام کو سودی اور انگریزی تعلیم کے ذریعے برباد کیا انگریز کمزور نہیں ہوا بلکہ وہ اور زیادہ مضبوط ہوا ہے اور گزشتہ تین سو سالوں سے بھی پہلے 16صدی میں اورنگزیب عالمگیر بادشاہ کے زمانے سے ان کا قبضہ شروع ہوا اور آج تک کم و بیش چار سو سال تک ان کا قبضہ اور زیادہ مضبوط ہو گیا ہے اور آج امریکہ اور مغرب برصغیر میں مودی کے کندھوں پر بیٹھ کر ایک انتہائی خطرناک جنگ کی تیاری کر رہے ہیں جو شاید مسلمانوں کی ہوش اڑا دے گی جو شاید سراج الدولہ کی 1757ءپلاسی کی شکست کو بھی شرمسار کر دے گی اور یہ جنگ شاید غزوہ ہند کی صورت میں ہو یا اس کا پیش خیمہ ہو قرآن ہمیں بتاتا ہے کے نمرود نے مچھر سے شکست کھائی عظیم فرعون نے موسی جیسے "بظاہر "کمزور انسان سے سلطنت فارس و روم نے عرب بدووں سے اور آج امریکہ اور مغرب جیسے سامراجی قوتوں نے نہتے اور قدامت پسند مجاہدین سے بقول علامہ اقبال۔۔۔۔ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
    کیونکہ علامہ اقبال مغرب کو قریب سے دیکھنے کے علاوہ قادیانیت کے راستے میں ہو کر دوبارہ دائرہ اسلام میں علامہ انور شاہ کشمیری کے ذریعے داخل ہوئے تھے

  7. Iam so sad peoples still not get afraid from Allah … my husband left me with in 5 months and now he not taking any responsibility of me and my daughter … no contact I try everything but nothing happing … heart broken .. that no one is sincere

  8. Asslam alequm Mai India se hu Mai kafi presan thi or bemar bhi or logo ki rawaou se kafi presan thi fir Mai two days pahle mulana ko khawab me dekhai us deen se ek ajeeb dil ko khusi ho rahi kasss ek baar mil leti ya baat Kar leti ya Allah apne ghar ka dedar naseeb kare mujhe